خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 520

خلافة على منهاج النبوة ۵۲۰ جلد سوم وہ عصمت حاصل رہے گی جو اس کام کے لئے ضروری ہے۔خلیفہ جماعت کو تباہ کر میں اس بات کا قائل نہیں کہ خلیفہ کو ئی غلطی نہیں کر سکتا مگر اس بات کا قائل ہوں کہ وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کر دینے والی غلطی نہیں کر سکتا سکتا جس سے جماعت تباہ ہو۔وہ اس اور اس کام میں غلطی کر سکتا ہے مگر سب کاموں میں غلطی نہیں کر سکتا اور اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر بھی بیٹھے جس کا اثر جماعت کے لئے تباہی خیز ہو تو خدا تعالیٰ اس غلطی کو بھی درست کر دے گا اور اس کے بھی نیک نتائج پیدا ہوں گے۔یہ عصمت کسی اور جماعت یا کسی اور مجلس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔میں مانتا ہوں کہ خلفاء غلطی کرتے رہے اور اب بھی کر سکتے ہیں۔بعض اوقات میں کوئی فیصلہ کرتا ہوں جس کے متعلق بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ہو گئی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ غلطی سے زیادہ محفوظ کون ہے۔اجتہادی اور سیاسی غلطیاں تو رسول سے بھی ہو سکتی ہیں پھر خلیفہ ایسی غلطیوں سے کس طرح بچ سکتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہو سکتا ہے کہ دو شخص میرے پاس لڑتے ہوئے آئیں۔ان میں سے ایک لستان ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں لیکن اگر فی الواقعہ اس کا حق نہیں تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میرے دلانے سے اس کے لئے جائز ہو گیا۔ایسی حالت میں اگر وہ لے گا تو آگ کا ٹکڑا لے گا لے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرار کیا ہے کہ ممکن ہے آپ ایک فیصلہ کریں اور وہ غلط ہو۔ایک شخص کو کچھ دلائیں مگر وہ اس کا حق نہ ہو لیکن باوجود اس کے قرآن کریم کہتا ہے فَلا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا میری ہی ذات کی قسم ! ان میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے تمام جھگڑوں کا تجھ سے فیصلہ نہ کرائے اور پھر جو تو فیصلہ کرے گو یہ ممکن ہے کہ تو غلط کرے یا درست کرے مگر کچھ ہو ، انتظام کی درستی اور قیام امن کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کے متعلق دلوں میں تنگی نہ ہوا اور پھر اس فیصلہ پر عمل بھی کریں۔یہ وہ معاملات ہیں جن میں نبوت کا تعلق نہیں ہے۔اگر نبوت کا تعلق ہوتا تو پھر ان میں