خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 513
خلافة على منهاج النبوة ۵۱۳ جلد سوم خلیفہ وقت کے گزارہ کا سوال مجلس مشاورت منعقد ہ ۱۹۲۴ء میں خلیفہ وقت کے گذر اوقات کے لئے رقم مقرر کرنے کے بارہ میں ایک تجویز کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔اب میں تجویز نمبر 9 کو لیتا ہوں جو خلیفہ کی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور اس کو اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں۔اس میں عام لوگوں سے مشورہ نہیں لیا جاتا کیونکہ ان کیلئے اخلاقاً وقتیں ہوں گی۔ہاں اگر کوئی عالم صاحب کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں وہ تجویز یہ ہے۔خلیفہ وقت سلسلہ کے اموال کو بلا مجلس شوریٰ سے مشورہ لینے کے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ نہیں کر سکتا۔یعنی کوئی رقم ماہواری یا یکمشت اپنی ضروریات کے لئے نہیں لے سکتا جب تک مجلس شوری کی کثرت رائے اس امر پر اپنی رضا ظاہر نہ کرے لیکن گو اس وقت تک خلفاء خلافت کے کام کے بدلہ میں کوئی گزارہ نہیں لیتے ہو سکتا ہے کہ آئندہ اس کا انتظام کرنا پڑے اور بعض خلفاء ایسے ہوں جو بلا کسی ایسے انتظام کے گزارہ نہ کرسکیں اس لئے ضروری ہوگا کہ ہر نئے خلیفہ کے متعلق مجلس شوریٰ فیصلہ کرے کہ اُس کو اس قدر رقم گزارہ کے طور پر ملے گی۔کسی خلیفہ کو جائز نہیں ہوگا کہ شوریٰ کے اس فیصلہ کو توڑے کیونکہ خلفائے سابقین کا یہی طریق رہا ہے اور خلیفہ کا اپنے نفس کے متعلق اس قید کو قبول کرنا حسن انتظام کے لئے ضروری ہے۔ہاں مجلس شوری کو یہ جائز نہ ہوگا کہ بعد میں کبھی اس رقم میں جو مقر ر کر چکی ہے کمی کرے۔مگر خلفاء اپنی وسعت ادا ئیگی کے مطابق حسب سنت خلفائے راشدین قرض بیت المال سے لے سکتے ہیں۔(اس کے بعد حضور کی اجازت کے مطابق دو بزرگ علماء سلسلہ نے اس تجویز کے بارہ میں اپنی آراء پیش کیں انہیں سننے کے بعد حضور نے فرمایا )