خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 508
خلافة على منهاج النبوة ۵۰۸ جلد سوم خلافت کی موجودگی میں مشورہ کی ضرورت ابھی تک میں سمجھتا ہوں جماعت میں اس کے متعلق احساس پیدا نہیں ہوا کہ خلافت کی موجودگی میں مشورہ کی کیا ضرورت ہے۔مگر پھر بھی پچھلے سال کی نسبت اب کی دفعہ زیادہ نمائندے آئے ہیں لیکن ابھی کم ہیں۔یہ بات کسی ستی کی وجہ سے نہیں کیونکہ مشورے کے علاوہ دوسرے وقت میں شامل ہوتے ہیں۔اب بھی نمائندوں کی نسبت ایسے لوگ زیادہ ہیں جو سننے آئے ہیں جب بھی کوئی تقریر ہو تو سب لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔پھر عام لوگ جلسہ پر زیادہ ہوتے ہیں اور اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ رات کے ۱۲ بجے تک مصافحہ کرتا ہوں اور پھر بھی مصافحہ ختم نہیں ہوتا۔چنانچہ آج ایک صاحب ملے اُنہوں نے کہا چار سال ملنے کی کوشش کرتا رہا ہوں مگر نہیں مل سکا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مشورہ میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔پس مشورہ میں زیادہ تعداد میں نہ آنے کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ خلیفہ کی موجودگی میں مشورہ کی ضرورت نہیں سمجھتے لیکن خلیفہ کے باوجو د مشورہ کی ضرورت ہے اور بہت لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تحریک خلیفہ کے خلاف ایک بغاوت ہے مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ تحریک خلیفہ کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ اس کی تحریک مجھ سے ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے ہوئی اور باوجود خلافت کی موجودگی کے مشورہ کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے پچھلے سال کہا تھا کہ کوئی خلافت مشورہ کے بغیر نہیں اب بھی یہی کہتا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو کلمہ پڑھتا ہے اُس پر ایک دفعہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے اور وہ اسلام کی ذمہ داری ہے اُس کو اِس سے غرض نہیں کہ اس کام کو اور بھی کرنے والے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی ذمہ دار ہے اور اس لئے ہر ایک