خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 497

خلافة على منهاج النبوة ۴۹۷ جلد سوم گرتی ہوئی قوم کو سنبھال لیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کھڑا کر دیا اور انہوں نے قوم کی باگ ڈور سنبھال لی اور جولوگ انصار میں سے تھے اور چاہتے تھے کہ ان میں سے خلیفہ کا انتخاب ہو ان کو بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف مائل کر دیا۔پھرا بھی قوم کا شیرازہ سنبھلنے نہ پایا تھا کہ عرب کے بعض قبائل نے ارتداد کا اعلان کر دیا اور ان کے سرداروں نے خود مختار حکومتیں قائم کر لیں۔اسی طرح سے متعدد جھوٹے مدعیان نبوت اُٹھ کھڑے ہوئے۔مزید برآں بعض قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ان مشکلات کے ساتھ موتہ کی مہم علیحدہ در پیش تھی جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں رومیوں سے حضرت زید بن حارثہ کے خون کا انتقام لینے کے لئے ان کے لڑکے اسامہ بن زید کی ماتحتی میں شام بھیجنے کا حکم دیا تھا ابھی یہ مہم روانہ نہ ہوئی تھی کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔یہ سب حالات اس قسم کے تھے کہ ایسے حالات میں ایک اچھا دلیر اور مضبوط دل والا انسان بھی گھبرا جاتا ہے لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دل پر اللہ تعالیٰ نے ایسی سکیت اور اطمینان نازل کیا کہ آپ گھبرائے نہیں اور آپ اسی وثوق اور یقین پر تھے کہ خدا کے وعدے بہر حال پورے ہوں گے۔زمین و آسمان بے شک ٹل جائیں لیکن خدا کی باتیں نہیں مل سکتیں اور اِذا جَاء نَصْرُ الله وَالفَتْحُ کی آیت ان کی ڈھارس کو باندھے ہوئے تھی۔چنانچہ صحابہ کرام نے ان مخدوش حالات میں حضرت ابو بکر کو مشورہ دیا کہ حضرت اسامہ بن زید کو موتہ کی مہم کے لئے نہ بھجوایا جائے اور سب سے پہلے ان فتنوں کا تدارک کیا جائے جو اندرونِ عرب پیدا ہو گئے ہیں یعنی مرتدین اور زکوۃ کے منکرین کا فتنہ اور جھوٹے مدعیان کا فتنہ۔مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سختی سے صحابہ کی بات کا انکار کر دیا اور فرمایا کہ جس لشکر کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کیا تھا اُس کو روکنے کا حق ابو بکر کو کہاں ہوسکتا ہے۔وہ لشکر بہر حال اپنی مہم پر روانہ ہو گا خواہ مدینہ کی یہ حالت ہو جائے کہ اس پر دشمن ٹوٹ پڑیں اور ہماری لاشوں کو درندے گھسیٹ رہے ہوں۔یہ فقرات اس شخص کی زبان سے ہی نکل سکتے ہیں جو اس یقین سے پُر ہو کہ اسلام کا غالب آنا خدا کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور یہ تقدیریل نہیں سکتی خواہ ساری دنیا ہی اس کے مقابلہ کے لئے ย