خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 496
خلافة على منهاج النبوة ۴۹۶ جلد سوم سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے ہیں تو آپ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شامل ہوں گے اور حضور کے چشمہ سے فوج در فوج لوگ سیراب ہوں گے اور آپ کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے وجودوں کو کھڑا کر دے گا جو آپ کی اُمت کو سنبھال لیں گے اور اس میں کسی قسم کا رخنہ پیدا نہ ہونے دیں گے۔اور مخالفین جو سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا ان کی خوشیاں پامال ہو جائیں گی اور اسلام دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا اور جو مشکلات پیش آئیں گی وہ خس و خاشاک کی طرح اُڑ جائیں گی۔گو یا اللہ تعالیٰ نے سورۃ النصر کو نازل کر کے ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور دوسری طرف آپ کے متبعین کو یہ ہدایت کی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر گھبرا نہ جائیں۔جس خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کا میاب و کامران کیا وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا خدا ہے اور وہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی اُمت کا محافظ ہوگا اور آپ کے بعد صحابہ کو یتیم کی صورت میں دیکھ کر وہ پہلے سے بھی زیادہ مدد کرے گا اور اس کی نصرت کے دروازے بند نہیں ہوں گے بلکہ اور بھی زیادہ کھل جائیں گے اور اس نصرت کو دیکھ کر لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہو جائیں گے اور آسمانی بادشاہت کا قیام ہو جائے گا اور ساری دنیا تو حید کے نور سے منور ہو جائے گی۔مزید برآں مخالفین کی جھوٹی خوشیاں بھی پامال ہو جائیں گی چنانچہ یہ وعدہ جس رنگ میں پورا ہوا اس کو ہر غیر متعصب آدمی دیکھ کر یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ واقعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے بچے رسول تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اُس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر اور مخلص لوگوں کے بھی قدم لڑکھڑا گئے اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو بظاہر بے وقت سمجھا جانے لگا اور پھر خلافت کے انتخاب پر بھی فتنہ کے آثار نظر آرہے تھے کیونکہ انصار یہ چاہتے تھے کہ خلیفہ ان میں سے منتخب کیا جائے اور مہاجرین کی یہ رائے تھی کہ عرب لوگ سوائے قریش کے کسی اور سے دبنے کے نہیں۔اس فتنہ کو دیکھ کر مخالفین یہود اور دوسرے لوگ اس خیال سے خوش تھے کہ اسلام اب ختم ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فوراً