خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 495

خلافة على منهاج النبوة ۴۹۵ جلد سوم اللہ تعالیٰ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم الشان فتوحات کے وعدے سورة النصر آیت ۲ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ستر دن پہلے نازل ہوئی تھی اور یہ کہ اس سورۃ کے نازل ہونے کے ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم بھی دے دیا گیا تھا کہ اب آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔یہ طبعی بات ہے کہ جب کسی شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ عنقریب اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور اقرباء کو چھوڑ کر اس دنیا سے جانے والا ہے تو وہ اس لحاظ سے متفکر ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد اسکی اولاد، اس کے عزیزوں ، رشتہ داروں اور متعلقین کا کیا بنے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام بخشا تھا اس لحاظ سے آپ کو اپنے جسمانی عزیزوں اور اقرباء کے متعلق تو کوئی فکر دامن گیر نہیں ہو سکتا تھا ہاں اگر خیال آ سکتا تھا تو یہی کہ کہیں آپ کے بعد آپ کی اُمت میں کوئی خلل تو پیدا نہ ہوگا اور اگر پیدا ہوا تو اس کے متعلق کیا صورت ہوگی۔اور نبی کی وفات پر عام طور پر اس کے متبعین گھبرا جاتے ہیں اور نبی کی وفات کو بے وقت موت سمجھا جاتا ہے اور مخالفین بھی اس خیال میں ہوتے ہیں کہ اس نبی نے تو اپنے زمانہ میں کام چلا لیا ہے لیکن اس کی وفات کے بعد اس کا لگایا ہوا پوداختم ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ النصر میں ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ آپ متفکر نہ ہوں یہ فتوحات جو آپ کے زمانہ میں ہوئی ہیں یہ رُک نہیں جائیں گی بلکہ ان کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو جائے گا اور اسلام میں اگر آپ کے زمانہ میں بیک وقت