خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 493

خلافة على منهاج النبوة ۴۹۳ جلد سوم ۲- وَسُلْطَانُ الاعْظَمُ۔سب سے بڑا بادشاہ۔- وَفِي الشَّرْعِ الْإِمَامُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ اور شرعی اصطلاح میں خلیفہ اس امام کو کہتے ہیں جس کے اوپر اس زمانہ میں کوئی امام نہ ہو۔( اقرب ) پھر الْخِلافَةُ کے معنی کرتے ہوئے اقرب الموارد میں لکھا ہے:۔ا - الامارة یعنی خلافت کے ایک معنی حکومت کے ہیں۔النِّيَابَةُ عَنِ الْغَيْرِ إِمَّا لِغَيْبَةِ الْمَنُوبِ عَنْهُ أَو لِمَوْتِہ۔کہ خلافت کے معنی ہیں کسی کا نائب اور قائم مقام ہو کر وہی کام کرنا جو اصل وجود کام کر رہا تھا اور یہ نیابت یا تو اس لئے ہو کہ اصل وہاں موجود نہیں یا اصل وفات پا گیا ہے اب اس کے کام کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔(اقرب ) پس لغت کے ان معنوں کے لحاظ سے تیستَخْلِفَنَّهُمْ کے مندرجہ ذیل معنی ہوں گے:۔ا۔اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ملک میں بہت بڑے خلفاء اور بادشاہ بنادے گا۔- یہ بادشاہت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں ہوگی یعنی جو کام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرانجام دے رہے ہیں وہی کام ان کو سر انجام دینا ہو گا۔الغرض مومنوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں حکومت عطا کرے گا اور وہ حکومت بھی الہی منشاء کے مطابق ہوگی۔پھر مَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ کے الفاظ میں یہ بھی بتا دیا کہ خلافت در حقیقت خدا تعالی کی نمائندگی میں ہوتی ہے اور خدا کی صفات کو ظاہر کرنے والی ہوتی ہے جو اس کا انکار کرتا ہے وہ درحقیقت خدا تعالیٰ سے عہد مؤدَّث تو ڑتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے بعد خلافت ہو گی یعنی ایسے وجود ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کو جاری کرنے والے ہوں گے لیکن ان کے بعد یہ حالت بدل جائے گی اور دوسری قوموں کی نقل میں مسلمان بھی استبدادی حکومت کے شائق ہو جائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ دوبارہ صحیح خلافت کو قائم کرے گا جو خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے والی ہو گی۔چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَاشَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ