خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 489
خلافة على منهاج النبوة ۴۸۹ جلد سوم حیثیت میں اب وہ ان کے سامنے نہیں آئے گا۔پس جس شان و شوکت کا وہ مستحق سمجھا جاتا ہے اس شان وشوکت کا مستحق تین سالہ یا چار سالہ صدر نہیں سمجھا جا سکتا۔مگر اس ڈیما کریسی اور جمہوریت کے زمانہ میں سہ سالہ اور چارسالہ میعاد کے لئے چنے جانے والے صدروں کی زندگیوں کو دیکھ لو ملک کا کتنا رو پیدان پر صرف ہوتا ہے۔صدر جمہوریت امریکہ پر ہر سال جو روپیہ خرچ ہوتا ہے انگلستان کے بادشاہ پر بھی اتنا خرچ نہیں ہوتا۔مگر اس کے مقابل میں خلفائے اربعہ کس طرح پبلک کے روپیہ کی حفاظت کرتے تھے وہ ایک ایسا تاریخی امر ہے کہ اپنے اور بیگانے اس سے واقف ہیں صرف نہایت ہی قلیل رقوم انہیں گزارے کے لئے ملتی تھیں اور خود اپنی جائیدادوں کو بھی وہ بنی نوع انسان کے لئے خرچ کرتے رہتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُن خلفاء میں سے ہیں جن پر اپنوں اور بیگانوں نے بہت سے اعتراضات کئے ہیں۔جب ان کی عمر کے آخری حصہ میں کچھ لوگوں نے بغاوت کی اور ان کے خلاف کئی قسم کے اعتراضات کئے تو ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ انہوں نے بہت سے روپے فلاں فلاں اشخاص کو دیئے ہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اسلام کے خزانہ پر سب ہی مسلمانوں کا حق ہے اگر میں قومی خزانہ سے ان لوگوں کو دیتا تو بھی کوئی اعتراض کی بات نہ تھی مگر تم قو می رجسٹروں کو دیکھ لو میں نے ان کو قومی خزانہ سے روپیہ نہیں دیا بلکہ اپنی ذاتی جائیداد میں سے دیا ہے گویا ان کی ذاتی جائیدا دقومی خزانہ کے لئے ایک منبع آمد تھی۔پس ان لوگوں نے اپنے غلبہ اور استعلاء کومحض خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کیا نہ کہ اپنی شان بڑھانے کے لئے۔اور یہی وہ چیز ہے جو قوموں کو دوام بخشتی ہے۔اگر مسلمان اس تعلیم پر عمل کرتے تو کبھی زوال کا منہ نہ دیکھتے“۔البينه : ۶ ( تفسیر کبیر جلد ۹ صفحه ۳۷۶، ۳۷۷)