خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 488

خلافة على منهاج النبوة ۴۸۸ جلد سوم خلفائے اربعہ حقوق العباد کے ادا کرنے کی ایک بے نظیر مثال تھے سورة البينة كى آيت وَمَا أمروا إلا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔خلفائے اربعہ حقوق العباد کے ادا کرنے کی ایک بے نظیر مثال گزرے ہیں۔ایک طرف خدا تعالیٰ کو انہوں نے مضبوطی سے پکڑے رکھا اور دوسری طرف بندوں کے حقوق بھی خوب ادا کئے ایسے کہ اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ وہ بادشاہ نہ تھے پریذیڈنٹ تھے مگر پہلا سوال تو یہ ہے کہ انہیں پریذیڈنٹ بننے پر مجبور کس نے کیا ؟ آخر یہ عہدہ اُن کو اسلام نے ہی دیا اور اس عہدہ کی حیثیت کو انہوں نے اسلامی احکام کے ماتحت ہی قائم رکھا مگر یہ بات بھی تو نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ خواہ انہیں پریذیڈنٹ ہی قرار دیا جائے مگر اُن کا انتخاب ساری عمر کے لئے ہوتا تھا نہ کہ تین یا چار سال کے لئے۔جیسا کہ ڈیما کریسی کے پریذیڈنٹوں کا آجکل انتخاب ہوتا ہے۔یقیناً اگر ان کو صرف جمہوریت کا ہی عہدہ دیا تو جائے تو بھی یہ بات علم النفس کے ماتحت اور سیاسی اصول کے ماتحت ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تین چار سال کے لئے چنے جانے والے صدر اور ساری عمر کے لئے چنے جانے والے صدر میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔تین چار سال کیلئے چنے جانے والے صدر کے سامنے وہ دن ہوتے ہیں جب وہ اس عہدہ سے الگ کر دیا جائے گا اور پھر ایک معمولی حیثیت کا انسان بن جائے گا لیکن ساری عمر کے لئے چنا جانے والا صدر جانتا ہے کہ اب اس مقام سے اُترنے کا کوئی امکان نہیں اور اس کے اہل ملک بھی جانتے ہیں کہ اس حیثیت کے سوا اور کسی