خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 478
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۸ جلد سوم ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ خلیفے ہم بنائیں گے لیکن مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں اور جب انہوں نے یہ سمجھا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں تو خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر خلیفے تم نے بنائے ہیں تو اب تم ہی بناؤ۔چنانچہ ایک وقت تک تو وہ رض پہلوں کا مارا ہوا شکار یعنی حضرت ابو بکر، حضرت عمر با حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کا مارا ہوا شکا رکھاتے رہے لیکن مرا ہوا شکار ہمیشہ کام نہیں دیتا۔زندہ بکرا یا زندہ بکری یا زندہ مرغا مرغی تو تمہیں ہمیشہ گوشت اور انڈے کھلائیں گے لیکن ذبح کی ہوئی مرغی یا بکری زیادہ دیر تک نہیں جا سکتی کچھ وقت کے بعد خراب ہو جائے گی۔حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کے زمانہ میں مسلمان شکار کا تازہ گوشت کھاتے تھے لیکن جب انہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کر دیا تو تازہ شکار کی بجائے اپنے باپ دادا کا مارا ہوا شکار انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔مگر یہ شکار کب تک کام دے سکتا تھا۔ایک ذبح شدہ بکری میں اگر ہیں چھپیں سیر گوشت بھی ہو تو آخر وہ ختم ہو جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا ان کا مارا ہوا شکار بھی ختم ہو گیا اور پھر ان کا وہی حال ہوا کہ ”ہتھ پرانے کھوسڑے بسنتے ہوری آئے“ وہ ہر جگہ ذلیل ہو نا شروع ہوئے انہیں ماریں پڑیں اور ان کی تمام شان و شوکت جاتی رہی۔عیسائیوں نے تو اپنی مردہ خلافت کو آج تک سنبھالا ہوا ہے لیکن انہوں نے اپنی زندہ خلافت کو اپنے ہاتھوں زمین میں گاڑ دیا جو محض نفسانی خواہشات، دنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جوشوں کا نتیجہ تھا۔اب چونکہ خدا تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے مسلمانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ میں خلافت قائم کی ہے اس لئے میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت - وابستہ رکھو اور خلافت کے قیام کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو خلافت تم میں ہمیشہ رہے گی خلافت تمہارے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دی ہی اسی لئے ہے تا وہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیا تھا اگر تم چاہتے تو یہ چیز تم میں قائم رہتی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے الہامی طور پر بھی قائم کر سکتا تھا مگر اُس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے یہ