خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 474
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۴ جلد سوم بحث کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان اتنی جلدی کیوں خراب ہو گئے باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے عظیم الشان احسانات ان پر تھے۔اعلیٰ درجہ کا تمدن اور بہترین اقتصادی تعلیم انہیں دی گئی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا مگر پھر بھی وہ گر گئے اور ان کی حالت خراب ہو گئی۔یہ نوٹ انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو انگریزی لکھی ہوئی تھی وہ بائیں طرف سے دائیں طرف کو نہیں لکھی ہوئی تھی بلکہ دائیں طرف سے بائیں طرف کو لکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی میں اسے پڑھ رہا تھا اور اس میں سے ایک فقرہ کے الفاظ قریباً یہ تھے کہ THERE WERE TWO REASONS FOR IT۔THEIR TEMPERAMENT BECOMING MORBID AND ANARCHICAL یعنی وہ خرابی جو مسلمانوں میں پیدا ہوئی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی طبائع میں دو قسم کے نقائص پیدا ہو گئے تھے۔ایک یہ کہ وہ ماربڈ (MORBID) ہو گئے تھے یعنی ان نیچرل (UN-NATURAL) اور ناخوشگوار ہو گئے تھے اور دوسرے ان کی ٹنڈ نسیز (TENDENCIES) انار کیکل (ANARCHICAL) ہو گئی تھیں۔یعنی ان میں فساد اور بغاوت کی روح پیدا ہوگئی تھی۔میں نے سوچا کہ واقعہ میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ان کا مار بڈ (MORBID) ہونا تو اس سے ظاہر ہے کہ انہیں جو بھی ترقیات ملیں وہ اسلام کی وجہ سے ملی تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت ملی تھیں ان کی ذاتی خوبی یا کمال کا ان میں کوئی دخل نہیں تھا مگر انہوں نے ان ترقیات کو اپنی ذاتی قابلیتوں کا نتیجہ سمجھنا شروع کر دیا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مکہ والوں کی جو کچھ حالت تھی اُس کا اندازہ صرف اِسی بات سے ہوسکتا ہے کہ لوگ اُن کا صرف مجاور سمجھ کر ادب کرتے تھے ورنہ ذاتی طور پر ان میں کوئی ایسی خوبی نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ ان کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے۔اسی طرح جب وہ غیر قوموں میں جاتے تو وہ بھی ان کا مجاور سمجھ کر ہی اعزاز کرتیں یا زیادہ سے زیادہ تا جر سمجھ کر ادب کرتی تھیں۔وہ انہیں کوئی حکومت قرار نہیں دیتی تھیں اور پھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں یہ سمجھتی تھیں کہ ہم جب چاہیں ان کو کچل سکتی ہیں۔جیسے