خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 470

خلافة على منهاج النبوة ۴۷۰ جلد سوم بننے پر مجبور کیا گیا اور پھر ایک چھوٹا سا عذر کر کے کہ معاویہ سے صلح کیوں کی انہیں لوگوں نے جنہوں نے آپ کو خلافت کے لئے کھڑا کیا تھا بغاوت کر دی اور خوارج کے نام سے الگ ہو گئے۔اور انہوں نے دوصدیوں تک اسلام میں وہ تہلکہ مچایا کہ لوگوں کا امن بالکل بر باد ہو گیا۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا اور امت محمدیہ میں مختلف اولیاء پیدا ہوئے تب بھی یہی ہوا کہ لوگوں نے ان کی نہ سنی بلکہ ان کے دشمن کی سنی جو اپنے وقت کے فرعون تھے اور ان کے پیچھے چل پڑے۔چنانچہ حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت قطب الدین صاحب بختیار کاکی ، حضرت نظام الدین صاحب اولیاء، اور حضرت خواجہ فرید الدین صاحب گنج شکر وغیرہ کی بھی مخالفت ہوئی۔حضرت سید احمد صاحب سر ہندی آئے تو لوگوں نے جہانگیر کے کان بھرنا شروع کر دیئے کہ یہ شخص حکومت کا باغی ہے اسے جلدی سنبھال لیں ورنہ سخت فتنہ پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ جہانگیر نے انہیں گوالیار کے قلعہ میں قید کر دیا۔مگر پھر بعض لوگوں نے انہیں سمجھایا کہ یہ بزرگ انسان ہے اسے رہا کر دو چنانچہ اس نے دانائی سے کام لے کر انہیں رہا کر دیا۔غرض جب سے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور خلفاء کا سلسلہ جاری ہے صداقت کی ہمیشہ مخالفت ہوتی چلی آئی ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۷ صفحه ۱۳۴) 66