خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 469

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۹ جلد سوم صداقت کی مخالفت ہمیشہ ہوتی چلی آئی ہے سورۃ الشعراء آیت ۳۵ تا ۴۱ میں حضرت موسی کے وقت جو فرعونِ مصر نے طریقہ اختیار کیا اس کا ذکر کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں :۔وو ” جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے تو آپ نے جو تعلیم دی وہ بنی نوع انسان کو فلاح اور کامیابی کے مقام تک پہنچانے والی تھی مگر آپ کے وطن کے لوگوں نے اس کا انکار کر دیا اور پہلے تو ابو جہل کے پیچھے چلے جو فرعون کا ایک روحانی قائم مقام تھا اور اس کی ہر گندی اور فساد پھیلانے والی تعلیم کو انہوں نے قبول کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم کو ر ڈ کر دیا۔آپ کے بعد بھی یہی ہوا۔حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو صحابہ آپ پر ایمان لے آئے مگر سارے عرب نے بغاوت کر دی اور انہوں نے وہی طریق اختیار کیا جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے اختیار کیا تھا اور اُس وقت کے فراعنہ کے پیچھے چل پڑے۔اُس وقت کے فرعون مسیلمہ کذاب، اسود عنسی ، اور سجاح وغیرہ تھے جنہوں نے جھوٹے طور پر نبوت کا دعویٰ کر دیا اور لوگ ان کے متبع ہو گئے۔مگر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا جانشین تھا اور لوگوں کے اندر اسلامی روح پیدا کرنے والا تھا اس کو چھوڑ دیا۔پھر آپ کے بعد حضرت عمرؓ کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا تب بھی یہی ہوا۔حضرت عمرا اپنی وفات کے قریب حج کے لئے گئے تو بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عمر مر جائیں گے تو ہم فلاں کو خلیفہ بنائیں گے اور کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو ان کے زمانہ میں بھی عبداللہ بن سبا جیسے لوگوں نے فتنہ کھڑا کر دیا۔یہ شخص بھی مصری تھا جیسا کہ فرعون مصری تھا اور لوگوں نے اُس کی بات ماننی شروع کر دی۔اُن کے بعد حضرت علی خلیفہ ہوئے تب بھی لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا۔پہلے تو حضرت علی کو خلیفہ