خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 444

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۴ جلد سوم بعض دفعہ حضرت علی کے لشکر سے کئی کئی گنا زیادہ ہوتا تھا آپ اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اور یہی فرماتے تھے کہ جو کچھ قرآن کہتا ہے وہی مانوں گا اس کے خلاف میں کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتا۔اگر بعض لوگوں کی مخالفت کو ہی خوفناک امر قرار دے دیا جائے تب تو ماننا پڑے گا کہ انبیاء ( نَعُوذُ بِالله ) ہمیشہ لوگوں سے ڈرتے رہے ہیں کیونکہ جتنی مخالفت لوگ ان کی کرتے ہیں اتنی مخالفت اور کسی کی نہیں کرتے۔بہر حال دنیا کی مخالفت کو ئی حقیقت نہیں رکھتی اور نہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ الْخَوْفِ آمنًا بلك وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوفهم آمنا فرمایا ہے کہ جس چیز سے وہ ڈرتے ہوں گے اسے اللہ تعالیٰ دور کر دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ وہ صرف اس بات سے ڈرتے تھے کہ اُمت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔سو اُمت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس توجہ اور دعا کی برکت سے بحیثیت مجموعی ضلالت سے محفوظ رکھا اور اہل السنت والجماعت کا مذہب ہی دنیا کے کثیر حصہ پر ہمیشہ غالب رہا۔میں نے اس آیت کے جو یہ معنی کئے ہیں کہ اس جگہ خوف سے مراد عام خوف نہیں بلکہ وہ خوف ہے جسے خلفاء کا دل محسوس کرتا ہو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں عام خوف ضرور ہوتا ہے بلکہ عام خوف بھی اللہ تعالیٰ ان سے دور ہی رکھتا ہے سوائے اس کے کہ اس میں کوئی مصلحت ہو۔جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب خوف پیدا ہوا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خلافت کے انعام کے مستحق نہیں رہے تھے۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام خوفوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل وعدہ اس آیت میں اُسی خوف کے متعلق ہے جس کو وہ خوف قرار دیں اور وہ بجائے کسی اور بات کے ہمیشہ اس ایک بات سے ہی ڈرتے تھے کہ اُمت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آجائے۔سو خدا کے فضل سے اُمت محمدیہ ایسی ضلالت سے محفوظ رہی اور باوجود بڑے بڑے فتنوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد اس کی