خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 443

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۳ جلد سوم مسلمانوں پر سختی کرو گے۔پھر جب کہ آخر میں دشمنوں نے دیوار پھاند کر آپ پر حملہ کیا تو کس دلیری سے آپ نے مقابلہ کیا۔بغیر ڈر اور خوف کے اظہار کے آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر کا ایک بیٹا محمد بن ابی بکر جو ا نفی ہ کہلاتا ہے (اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے) آگے بڑھا اور اُس نے حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ کر اُسے زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان نے اس کی طرف آنکھ اُٹھائی اور فرمایا میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ اس وقت ہوتا تو تجھے کبھی ایسا کرنے نہ دیتا۔یہ سن کر اُس کا جسم کانپ گیا اور وہ شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔اس کے بعد ایک اور شخص آگے بڑھا اس نے ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر آپ کے سامنے جو قرآن کریم پڑا ہوا تھا اسے اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے الگ پھینک دیا۔وہ ہٹا تو ایک اور شخص آگے آگیا اور اس نے تلوار سے آپ پر حملہ کیا جس سے آپ کا ہاتھ کٹ گیا پھر اُس نے دوسرا وار کیا مگر آپ کی بیوی حضرت نائلہ درمیان میں آگئیں جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں اس کے بعد اس نے ایک اور وار کیا جس سے آپ زخمی ہو کر گر گئے مگر پھر اس نے یہ خیال کر کے کہ ابھی آپ کی جان نہیں نکلی ایسی حالت میں جب کہ زخموں کی شدت کی وجہ سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے آپ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کر دیا اور اُس وقت تک آپ کو نہیں چھوڑا جب تک کہ آپ شہید نہیں ہو گئے۔ان واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان واقعات سے خائف تھے اور جب وہ ان واقعات سے خائف ہی نہ تھے تو مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا کے خلاف یہ واقعات کیونکر ہو گئے۔یہ لوگ تو اگر کسی امر سے خائف تھے تو اس سے کہ اسلام کی روشنی میں فرق نہ آئے۔سو باوجود ان واقعات کے وہی بات آخر قائم ہوئی جسے یہ لوگ قائم کرنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔یہی حال حضرت علی کا ہے ان کے دل کا خوف بھی صرف صداقت اور روحانیت کی اشاعت کے بارہ میں تھا سوا اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو امن سے بدل دیا۔یہ ڈر نہیں تھا کہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت معاویہ کا لشکر