خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 440

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۰ جلد سوم سے پکڑ لیتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے سانپ کا خوف کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اسی طرح فقر ایک بڑی خوف والی چیز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الْفَقْرُ فَخْرِى فقر میرے لئے ذلت کا موجب نہیں بلکہ فخر کا موجب ہے۔اب اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کھانے کے لئے اگر ایک وقت کی روٹی بھی نہ ملے تو یہ بڑی ذلت کی بات ہوتی ہے تو کیا اس کے اس خیال کی وجہ سے ہم یہ مان لیں گے کہ نَعُوذُ بالله رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ذلت ہوئی ؟ جو شخص فقر کو اپنی عزت کا موجب سمجھتا ہے ، جو شخص چیتھڑوں کو قیمتی لباس سے زیادہ بہتر چیز سمجھتا ہے اور جو شخص دنیوی مال و متاع کو نجاست کی طرح حقیر سمجھتا ہے اُس کیلئے فقر کا خوف بالکل بے معنی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ الْخَوْفِ آمنا بلکہ فرمایا ہے وَلیبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا کہ کوئی ایسی خوف والی بات پیدا نہیں ہوگی جس سے وہ ڈرتے ہوں گے۔اس فرق کو مدنظر رکھ کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ خلفاء پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جس سے انہوں نے خوف کھایا ہوا ور اگر کوئی آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے امن سے بدل دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمرؓ شہید ہوئے مگر جب واقعات کو دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو اس شہادت سے کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ متواتر دعائیں کیا کرتے تھے کہ یا اللہ ! مجھے شہادت نصیب کر اور شہید بھی مجھے مدینہ میں کر۔19 پس وہ شخص جس نے اپنی ساری عمر یہ دعائیں کرتے ہوئے گزار دی ہو کہ یا اللہ ! مجھے مدینہ میں شہادت دے وہ اگر شہید ہو جائے تو ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اُس پر ایک خوفناک وقت آیا مگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے امن سے نہ بدلا گیا۔بے شک اگر حضرت عمر شہادت سے ڈرتے اور پھر وہ شہید ہو جاتے تو کہا جا سکتا تھا کہ ان کے خوف کو خدا تعالیٰ نے امن سے نہ بدلا مگر وہ تو دعائیں کرتے رہتے تھے کہ یا اللہ ! مجھے مدینہ میں شہادت دے۔پس ان کی شہادت سے یہ کیونکر ثابت ہو گیا کہ وہ شہادت سے ڈرتے بھی تھے اور جب وہ شہادت سے نہیں ڈرتے تھے بلکہ اس کے لئے دعائیں کرتے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمالیا تو معلوم ہوا کہ اس آیت کے ماتحت ان پر کوئی ایسا خوف نہیں آیا