خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 439
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۹ جلد سوم جب افرا تفری کی حالت پیدا ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کو حضرت علی کے ہاتھ پر اکٹھا کر دیا۔اور جب حضرت علیؓ کے مقابلہ میں حضرت معاویہؓ کھڑے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت معاویہؓ کے دل میں اُس زمانہ کے مناسب حال خشیت اللہ پیدا کر دی۔اور جب روم کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کا انتشار دیکھ کر اسلامی ممالک پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت معاویہؓ نے اُسے کہلا بھیجا کہ یہ نہ سمجھنا کہ مسلمانوں میں اختلاف ہے اگر تم نے اسلامی ملکوں پر حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو حضرت علی کی طرف سے تمہارے مقابلہ کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔کلے چنانچہ رومی بادشاہ ڈر گیا اور مسلمانوں کا خوف امن سے بدل گیا۔یہ ایک جزوی ایمان تھا۔اگر حضرت معاویہؓ اُس وقت کلّی طور پر ہتھیار ڈال دیتے اور حضرت علیؓ کے تابع ہو جاتے تو مسلمانوں کا اختلاف ہمیشہ کے لئے مٹ جاتا۔اور ایسے خوش کن نتائج نکلتے کہ آج ہر مسلمان کی گردن فخر سے اونچی ہوتی مگر افسوس کہ حضرت معاویہؓ نے صرف وقتی اطاعت کا اعلان کیا گلی اطاعت کا اعلان نہ کیا۔بعض لوگ غلطی سے اس آیت کا یہ مفہوم سمجھتے ہیں کہ خلفائے راشدین ہر تخویف سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کو چونکہ خلافت کے بعد مختلف حوادث پیش آئے اور دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا اس لئے حضرت ابو بکر کے سوا اور کسی کو خلیفہ راشد تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔یہ غلطی انہیں اس لئے لگی ہے کہ انہوں نے قرآنی الفاظ پر غور نہیں کیا۔بیشک خوف کا امن سے بدل جانا بھی بڑی نعمت ہے لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وَلَيُبَةِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ الْخَوْفِ أَمْنًا کہ جو بھی خوف پید ا ہو گا اُسے امن میں بدل دیا جائے گا بلکہ وَلیبَةِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا فرمایا ہے کہ جو خوف ان کے دل میں پیدا ہوگا اور جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اسے دُور کر دے گا اور اس کی جگہ امن پیدا کر دے گا۔پس وعدہ یہ نہیں کہ زید اور بکر کے نزدیک بھی جو ڈرنے والی بات ہو وہ خلفاء کو پیش نہیں آئے گی بلکہ وعدہ یہ ہے کہ جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اسے ضرور دور کر دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ سانپ بظاہر ایک بڑی خوفناک چیز ہے مگر کئی لوگ ہیں جو سانپ کو اپنے ہاتھ