خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 438
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۸ جلد سوم کوششیں حکومت کی طرف سے ہوئیں اور انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں اُن کو بد نام کرنے اور اُن کے ناموں کو مٹانے کے لئے بڑی کوششیں کیں مگر پھر بھی یہ دونوں خلفاء دُھلے ڈھلائے نکل آئے اور خدا نے تمام عالم اسلام میں ان کی عزت وتوقیر کو قائم کر دیا۔پھر دین کے ایک معنی سیاست اور حکومت کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے سچے خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ علامت بتائی کہ جس سیاست اور پالیسی کو وہ چلائیں گے اللہ تعالیٰ اُسے دنیا میں قائم فرمائے گا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفہ وقت سے کوئی غلطی ہو جائے لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہواگر اُس سے کوئی غلطی سرزد بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی حفاظت فرماتا ہے اور کسی نہ کسی رنگ میں اُسے اس غلطی پر مطلع کر دیتا ہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں اسے عصمت صغری کہا جاتا ہے۔گویا انبیاء کو تو عصمت کبرای حاصل ہوتی ہے لیکن خلفاء کو عصمت صغریٰ حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُن سے کوئی ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کے لئے تباہی کا موجب ہو۔اُن کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہوسکتی ہیں مگر انجام کار نتیجہ یہی ہوگا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا اور اُس کے مخالفوں کو شکست ہوگی۔گو یا بوجہ اس کے کہ ان کو صمت صغریٰ حاصل ہوگی خدا تعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی جوان کی ہوگی۔بیشک بولنے والے وہ ہوں گے ، زبانیں انہی کی حرکت کریں گی ، ہاتھ انہی کے چلیں گے، دماغ انہی کا کام کرے گا مگر ان سب کے پیچھے خدا تعالیٰ کا اپنا ہاتھ ہوگا۔اُن سے جزئیات میں معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بعض دفعہ اُن کے مشیر بھی اُن کو غلط مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہی کو حاصل ہو گی اور جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنے گی تو وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط ہو گی کہ کوئی طاقت اُسے تو نہیں سکے گی۔پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ ولیبدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا یعنی جب بھی قومی طور پر اسلامی خلافت کے لئے کوئی خوف پیدا ہوگا اور لوگوں کے دلوں میں نو رایمان باقی ہو گا اللہ تعالیٰ اس خوف کے بعد ضرور ایسے سامان پیدا کرے گا کہ جن سے مسلمانوں کا خوف امن سے بدل جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو حضرت عثمان کی شہادت کے بعد