خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 437
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۷ جلد سوم اور عمل صالح جاتا رہا تو حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد بنو عبدالشمس نے مسلمانوں پر تسلط جما لیا۔اور یہ وہ لوگ تھے جو حضرت عثمان سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی حکومت کے دوران میں حضرت علی کو تو مذمت ہوتی رہی اور حضرت عثمان کی خوبیاں بیان ہوتی رہیں۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے مداح اور ان کی خوبیوں کا ذکر کر نے والے اس دور میں بہت ہی کم تھے۔اس کے بعد حالات میں پھر تغیر پیدا ہوا اور بنو عبدال کی جگہ بنو عبدالمطلب نے قبضہ کر لیا یعنی بغداد میں دولت عباسیہ قائم ہوگئی۔اور یہ وہ لوگ تھے جو اہل بیت سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کا تمام زور حضرت علی کی تعریف اور آپ کی خوبیاں بیان کرنے پر صرف ہونے لگ گیا۔اس طرح کئی سو سال تک مسلمانوں کا ایک حصہ حضرت عثمان کے اوصاف شمار کرتا رہا اور ایک حصہ حضرت علیؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا۔مگر با وجود اس کے کہ خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومتوں کے یہ دو دور آئے اور دونوں ایسے تھے کہ ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت کم تھے پھر بھی دنیا میں جو عزت اور رتبہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے فتووں اور ارشادات کو حاصل ہے وہ ان دونوں کو حاصل نہیں۔گو ان سے اُتر کر انہیں بھی حاصل ہے اور یہ ثبوت ہے ويمكنتْ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِی ارتضى لَهُمْ کا کہ خدا نے اُنکے دین کو قائم کیا اور ان کی عزت کولوگوں کے قلوب میں جا گزیں کیا۔چنانچہ آج کسی مسلمان سے پوچھ لو کہ اس کے دل میں خلفاء میں سے سب سے زیادہ کس کی عزت ہے؟ تو وہ پہلے حضرت ابوبکر کا نام لے گا۔پھر حضرت عمرؓ کا نام لے گا۔پھر حضرت عثمان کا نام لے گا اور پھر حضرت علی کا نام لے گا۔حالانکہ کئی صدیاں ایسی گزری ہیں جن میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا۔اور اتنے لمبے وقفہ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام دنیا سے مٹ جایا کرتے ہیں لیکن خدا نے اُن کے نام کو قائم رکھا اور اُن کے فتووں اور ارشادات کو وہ مقام دیا جو حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے فتووں اور ارشادات کو بھی حاصل نہیں۔پھر بنو عبد الشمس کے زمانہ میں حضرت علی کو بدنام کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور دولت عباسیہ کے زمانہ میں حضرت عثمان پر بڑا لعن طعن کیا گیا۔مگر باوجود اس کے کہ یہ