خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 432

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۲ جلد سوم وقت سے پہلے نبی ہو چکے تھے اس لئے یہ خلافت جو حضرت موسی علیہ السلام نے انہیں دی تھی وہ خلافت نبوت نہیں ہو سکتی تھی۔اس کے معنی صرف یہ تھے کہ وہ حضرت موسی کی غیر حاضری میں ان کی قوم کا انتظام کریں اور قوم کو اتحاد پر قائم رکھیں اور فساد سے بچا ئیں۔پس وہ ایک تابع نبی بھی تھے اور ایک حکمران نبی کے خلیفہ بھی تھے اور یہ خلافت خلافتِ نبوت نہ تھی بلکہ خلافت انتظامی تھی۔مگر اس قسم کی خلافت بعض دفعہ خلافت انتظامی کے علاوہ خلافتِ نبوت بھی ہوتی ہے۔یعنی ایک سابق نبی کی اُمت کی درستی اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایک اور نبی مبعوث فرماتا ہے جو پہلے نبی کی شریعت کو ہی جاری کرتا ہے کوئی نئی شریعت نہیں لا تا۔گویا جہاں تک شریعت کا تعلق ہوتا ہے وہ پہلے نبی کے کام کو قائم رکھنے والا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے پہلے نبی کا خلیفہ ہوتا ہے۔لیکن عہدہ کے لحاظ سے وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے۔اس قسم کے خلفاء بنی اسرائیل میں بہت گزرے ہیں بلکہ جس قد را نبیاء حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل میں آئے ہیں سب اسی قسم کے خلفاء تھے۔یعنی وہ نبی تو تھے مگر کسی جدید شریعت کے ساتھ نہیں آئے تھے۔بلکہ حضرت موسی کی شریعت کو ہی دنیا میں جاری کرتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيْهَا هُدًى وَ نُوْرُ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ اسلموا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرِّبانِيُّون والاخبارُبِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتب الله وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ " یعنی ہم نے تو رات کو یقیناً ہدایت اور نور سے بھر پورا تارا تھا۔اس کے ذریعہ سے انبیاء جو ( ہمارے ) فرمانبردار تھے اور عارف اور ربانی علماء بہ سبب اس کے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر نگران تھے یہودیوں کے لئے فیصلے کیا کرتے تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت موسی کے بعد کئی انبیا ء ایسے آئے تھے جن کا کام حضرت موسیٰ کی شریعت کا قیام تھا۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ وہ حضرت موسی کے خلیفہ تھے۔لیکن ان انبیاء کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی جن کو ربانی اور احبار کہنا چاہئے اس کام پر مقرر تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور مجددین کا ایک لمبا سلسلہ حضرت موسی کے