خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 431

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۱ جلد سوم کے بعد اُن کا جانشین بنایا اور حکومت تمہارے ہاتھ میں آگئی۔اس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمت حکومت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل وانصاف کو مدنظر رکھ کر تمام کام کرو ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اللہ تعالیٰ اسی انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے کہ وَ اِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ انبِيَاء وَجَعَلَكُمْ مُلُوعًا واتىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ " اُس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کے اُس احسان پر غور کرو جو اُس نے تم پر اُس وقت کیا تھا جب اُس نے تم میں نبی بھیجے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا کی معلوم قوموں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہود کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا اِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاء کے ماتحت اُنہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ مُلُوعًا کے ماتحت انہیں خلافت ملوکیت دی۔چونکہ موسی کے وقت تک تو اور کوئی بادشاہ اُن میں نہیں ہوا اس لئے اس سے مراد یہ کہ نبوت موسوی اور بادشاہت موسوی عطا کی جو دریائے نیل کو پار کرنے کے بعد سے ان کو حاصل ہو گئی تھی۔جیسا کہ فتح مکہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بھی تھے اور ایک لحاظ سے بادشاہ بھی تھے مگر آپ کی بادشاہت خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع تھی خودسر با دشا ہوں والی بادشاہت نہ تھی۔مگر ان دوستم کی خلافتوں کے علاوہ نبی کے وہ جانشین بھی خلیفہ کہلاتے ہیں جو اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں۔یعنی اُس کی شریعت پر قوم کو چلانے والے اور اُن میں اتحاد قائم رکھنے والے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا غیر نبی۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام موعود راتوں کے لئے طور پر گئے تو اپنے بعد انتظام کی غرض سے انہوں نے حضرت ہارون کو کہا کہ اُخْلُفْنِي في قَوْمِي وَاصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفسدين الے یعنی میرے بعد میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ان کی اصلاح کو مدنظر رکھنا اور مفسد لوگوں کی بات نہ ماننا۔حضرت ہارون علیہ السلام چونکہ خود نبی تھے اور اُس