خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 429
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۹ جلد سوم منصو بہ کے ماتحت خلیفہ بن سکتا ہے۔خلیفہ وہی ہو گا جسے خدا بنانا چاہے گا۔بلکہ بسا اوقات وہ ایسے حالات میں خلیفہ ہو گا جبکہ دنیا اُس کے خلیفہ ہونے کو ناممکن خیال کرتی ہوگی۔دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے بچے خلیفہ کی یہ بتائی ہے کہ وہ اُس کی مدد انبیاء کے مشابہ کرتا ہے کیونکہ فرماتا ہے كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهیم کہ یہ خلفاء ہماری نصرت کے ایسے ہی مستحق ہوں گے جیسے پہلے خلفاء۔اور جب پہلی خلافتوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہ تین قسم کی نظر آتی ہیں۔اول خلافت نبوت۔جیسے آدم علیہ السلام کی خلافت تھی۔جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مانّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اب آدم علیہ السلام کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہ دُنیوی بادشاہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک وعدہ کیا اور انہیں اپنی طرف سے زمین میں آپ کھڑا کیا اور جنہوں نے ان کا انکار کیا انہیں سزا دی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آدم ان معنوں میں بھی خلیفہ تھے کہ ایک پہلی نسل کے تباہ ہونے پر انہوں نے اور ان کی نسل نے پہلی قوم کی جگہ لے لی اور ان معنوں میں بھی خلیفہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے ذریعہ ایک بڑی نسل جاری کی لیکن سب سے بڑی اہمیت جو انہیں حاصل تھی وہ نبوت اور ماموریت ہی کی تھی جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کی کیا گیا ہے۔انہی معنوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يداود اِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّيمِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ انَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدَ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ یعنی اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ( حضرت داؤد علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے معلوم ہوا کہ یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت ہی ہے ) پس تو لوگوں کے درمیان عدل وانصاف سے فیصلہ کر اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے سیدھے راستہ سے منحرف کر دیں۔یقیناً وہ لوگ جو گمراہ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہوگا اس لئے ایسے لوگوں کے مشورہ کو قبول نہ کیا کر بلکہ وہی کر جس کی طرف