خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 428

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۸ جلد سوم (الف) مسلمان بھی وہی انعام پائیں جو پہلی اُمتوں نے پائے تھے کیونکہ فرماتا ہے ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ( ب ) اس وعدہ کی دوسری غرض تمکین دین ہے۔(ج) اس کی تیسری غرض مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دینا ہے۔( د ) اس کی چوتھی غرض شرک کا دُور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام ہے۔اس آیت کے آخر میں ومَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الفيقُوْنَ کہہ کر الله تعالیٰ نے اس کے وعدہ ہونے پر زور دیا اور ولئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدُ کے وعید کی طرف توجہ دلائی کہ ہم جو انعامات تم پر نازل کرنے لگے ہیں اگر تم اُن کی ناقدری کرو گے تو ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔خلافت بھی چونکہ ایک بھاری انعام ہے اس لئے یا درکھو جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔یہ آیت ایک زبردست شہادت خلافت را شدہ پر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان مسلمانوں میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے گا جو موید من اللہ ہوگا۔جیسا کہ وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأرض اور وَليُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتضى لهُمْ سے ظاہر ہے اور مسلمانوں کو پہلی قوموں کے انعامات میں سے وافر حصہ دلانے والا ہو گا۔پھر اس آیت میں خلفاء کی علامات بھی بتائی گئی ہیں جن سے بچے اور جھوٹے میں فرق کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہیں۔اوّل۔خلیفہ خدا بناتا ہے یعنی اس کے بنانے میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا۔نہ وہ خود خواہش کرتا ہے اور نہ کسی منصوبہ کے ذریعہ وہ خلیفہ ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ایسے حالات میں وہ خلیفہ بنتا ہے جبکہ اُس کا خلیفہ ہونا بظاہر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہ الفاظ کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلحت خود ظاہر کرتے ہیں کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتا ہے وہی دیتا بھی ہے۔نہ یہ کہ وعدہ تو وہ کرے اور اُسے پورا کوئی اور کرے۔پس اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی کہ بچے خلفاء کی آمد خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گی۔کوئی شخص خلافت کی خواہش کر کے خلیفہ نہیں بن سکتا اور نہ کسی