خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 427
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۷ جلد سوم وہ کہے کہ اب جانی قربانی کی ضرورت ہے یا وطن قربان کرنے کی ضرورت ہے تو وہ جانیں اور اپنے وطن قربان کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔غرض یہ تین باتیں ایسی ہیں جو خلافت کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔اگر خلافت نہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری نمازیں بھی جاتی رہیں گی، تمہاری زکوۃ بھی جاتی رہے گی اور تمہارے دل سے اطاعت رسول کا مادہ بھی جاتا رہے گا۔ہماری جماعت کو چونکہ ایک نظام کے ماتحت رہنے کی عادت ہے اور اس کے افراد اطاعت کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اس لئے اگر ہماری جماعت کے افراد کو آج اُٹھا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رکھ دیا جائے تو وہ اُسی طرح اطاعت کرنے لگ جائیں گے جس طرح صحابہ اطاعت کیا کرتے تھے لیکن اگر کسی غیر احمدی کو اپنی بصیرت کی آنکھ سے تم اس زمانہ میں لے جاؤ تو تمہیں قدم قدم پر وہ ٹھوکریں کھاتا ہوا دکھائی دے گا اور وہ کہے گا ذرا ٹھہر جائیں مجھے فلاں حکم کی سمجھ نہیں آئی بلکہ جس طرح ایک پٹھان کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کہہ دیا خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا کیونکہ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طرح وہ بعض باتوں کا انکار کرنے لگ جائے گا لیکن اگر ایک احمدی کو لے جاؤ تو اس کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ وہ کسی غیر مانوس جگہ میں آ گیا ہے۔بلکہ جس طرح مشین کا پُرزہ اپنی جگہ پر لگ جاتا ہے اُسی طرح وہ وہاں پر فٹ آ جائے گا اور جاتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی بن جائیگا اور آپ کے ہر حکم کی ہلا چون و چرا اطاعت کرنے لگ جائے گا اور ائمہ اربعہ اس کے لئے کبھی ٹھوکر کا موجب نہیں بنیں گے کیونکہ وہ سمجھتا ہو گا کہ اصل حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ائمہ اربعہ تو محض آپ کے غلام بلکہ شاگردوں کے بھی شاگرد ہیں۔یہ آیت جو آیت استخلاف کہلاتی ہے اس میں مندرجہ ذیل امور بیان کئے گئے ہیں۔اول جس انعام کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ایک وعدہ ہے۔دوم یہ وعدہ اُمت سے ہے جب تک وہ ایمان اور عمل صالح پر کار بندر ہے۔سوم اس وعدہ کی غرض یہ ہے کہ :۔