خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 426
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۶ جلد سوم موجود ہے اس لئے میرے خطبات ہمیشہ اہم وقتی ضروریات کے متعلق ہوتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ کئی غیر احمدی بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔درحقیقت لیڈر کا کام لوگوں کی راہنمائی کرنا ہوتا ہے مگر یہ راہنمائی وہی شخص کر سکتا ہے جس کے پاس دنیا کے اکثر حصوں سے خبریں آتی ہوں اور وہ سمجھتا ہو کہ حالات کیا صورت اختیار کر رہے ہیں۔صرف اخبارات سے اس قسم کے حالات کا علم نہیں ہوسکتا کیونکہ اخبارات میں بہت کچھ جھوٹی خبریں درج ہوتی ہیں اس کے علاوہ ان میں واقعات کو پورے طور پر بیان کرنے کا التزام نہیں ہوتا لیکن ہمارے مبلغ چونکہ دنیا کے اکثر حصوں میں موجود ہیں اور پھر جماعت کے افراد بھی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ان کے ذریعہ مجھے ہمیشہ سچی خبر میں ملتی رہتی ہیں اور میں ان سے فائدہ اُٹھا کر جماعت کی صحیح راہنمائی کرتا رہتا ہوں۔پس در حقیقت اقامة الصلوۃ بھی بغیر خلیفہ کے نہیں ہو سکتی۔اسی طرح اطاعت رسول بھی جس کا اس آیت میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہوسکتی کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرو دیا جائے۔یوں تو صحابہ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں ، صحابہؓ بھی حج کرتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں پھر صحابہ اور آجکل کے مسلمانوں میں فرق کیا ہے؟ یہی ہے کہ صحابہ میں ایک نظام کا تابع ہونے کی وجہ سے اطاعت کی روح حد کمال کو پہنچی ہوئی تھی چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے صحابہ اُسی وقت اُس پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے لیکن یہ اطاعت کی روح آجکل کے مسلمانوں میں نہیں۔مسلمان نمازیں بھی پڑھیں گے، روزے بھی رکھیں گے، حج بھی کریں گے مگر ان کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں ہوگا کیونکہ اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔پس جب بھی خلافت ہوگی اطاعت رسول بھی ہوگی کیونکہ اطاعت رسول یہ نہیں کہ نمازیں پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو یہ تو خدا کے احکام کی اطاعت ہے۔اطاعت رسول یہ ہے کہ جب وہ کہے کہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب لوگ نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب زکوۃ اور چندوں کی ضرورت ہے تو وہ زکوۃ اور چندوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب