خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 420
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۰ جلد سوم کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگاہ میں ان کی عزت کم ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہو سکیں کیونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اُٹھتی ہے تو وہ حضرت ابو بکر ہی ہے اور اگر ابوبکر کے ذریعہ سے خلافت قائم ہوگئی تو عبداللہ بن ابی ابن سلول کی بادشاہی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس الزام کے معاً بعد خلافت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ خلافت بادشاہت نہیں وہ تو نور الہی کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اس کا قیام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس کا ضائع ہونا نور نبوت اور نو ر الوہیت کا ضائع ہوتا ہے۔پس وہ اس نور کوضرور قائم کرے گا اور جسے چاہے گا خلیفہ بنائے گا بلکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک نہیں بلکہ متعدد لوگوں کو خلافت پر قائم کر کے اس نور کے زمانہ کو لمبا کر دے گا۔تم اگر الزام لگانا چاہتے ہو تو بے شک لگاؤ نہ تم خلافت کو مٹا سکتے ہو نہ ابو بکر کو خلافت سے محروم کر سکتے ہو کیونکہ خلافت ایک نور ہے جونو راللہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان اپنی تدبیروں سے کہاں مٹا سکتا ہے۔دیکھو اس تشریح کے ساتھ سورۃ نور کی تمام آیتوں کا آپس میں کس طرح ربط قائم ہو جاتا ہے اور کس طرح پہلے چار رکوعوں کے مضمون کا اللہ نور السموات والارض اور اس کے بعد کی آیتوں کے ساتھ ربط قائم ہو جاتا ہے اور ساری سورۃ کے مطالب آئینہ کی طرح سامنے آجاتے ہیں۔پس خلافت ایک الہی انعام ہے کوئی نہیں جو اس میں روک بن سکے۔وہ خدا تعالیٰ کے نور کے قیام کا ایک ذریعہ ہے جو اس کو مٹانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانا چاہتا ہے۔ہاں وہ ایک وعدہ ہے جو پورا تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کے زمانہ کی لمبائی مؤمنوں کے اخلاص کے ساتھ وابستہ ہے۔پھر فرماتا ہے لاشرقيّةٍ ولا غربية حل وہ نہ شرقی ہے نہ غربی۔شرقی درخت اس کو کہتے ہیں جس پر سورج صرف مشرق کی طرف سے پڑتا ہو اور مغرب کی طرف سے کسی دیوار یا درختوں کی اوٹ کی وجہ سے نہ پڑتا ہو۔اور غربی اس کو کہتے ہیں جس پر سورج صرف مغرب کی طرف سے پڑتا ہو مشرق کی طرف سے نہ پڑتا ہو۔اس میں ایک بات تو یہ بتائی کہ اسلامی شریعت ایک عالمگیر تعلیم کی حامل ہے وہ نہ مشرقی لوگوں سے مخصوص ہے اور نہ مغربی لوگوں سے بلکہ ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے ہے اور تمام بنی نوع