خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 419

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۹ جلد سوم سے ہم اس عظیم الشان ذریعہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ اپنے نور کو دیر تک دنیا میں قائم رکھنے کے لئے اس سامان کو مہیا کریں گے۔اس بات کا مزید ثبوت کہ اس آیت میں جس نور کا ذکر ہے وہ نورِ خلافت ہی ہے اس سے اگلی آیتوں میں ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اِس سوال کا جواب دیتا ہے کہ یہ نور کہاں ہے؟ فرماتا ہے في بيوت شا یہ نور خلافت چند گھروں میں پایا جاتا ہے۔نور نبوت تو صرف ایک گھر میں تھا مگر نورِ خلافت ایک گھر میں نہیں بلکہ في بيوت چند گھروں میں ہے۔پھر فرماتا ہے اذن الله ان ترفع " وہ گھر ابھی چھوٹے سمجھے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ان گھروں کو اونچا کرے کیونکہ نبوت کے بعد خلافت اُس خاندان کو بھی اونچا کر دیتی ہے جس میں سے کوئی شخص منصب خلافت حاصل کرتا ہے۔اس آیت نے بتا دیا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا مقصد نورِ خلافت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتا نا مد نظر ہے کہ نورِ خلافت، نور نبوت اور نورالوہیت کے ساتھ گلی طور پر وابستہ ہے اور اس کو مٹانا دوسرے دونوں نوروں کو مٹانا ہے پس ہم اسے مٹنے نہیں دیں گے اور اس نور کو ہم کئی گھروں کے ذریعہ سے ظاہر کریں گے تا نور نبوت کا زمانہ اور اس کے ذریعہ سے نور الہیہ کے ظہور کا زمانہ لمبا ہو جائے۔چنانچہ خلافت پہلے حضرت ابوبکر کے پاس گئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔کیونکہ خدا نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ ان بیوت کو اونچا کرے۔تُرفع کے لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ الزام لگانے والوں کی اصل غرض یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیچا کر یں اور انہیں لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کریں مگر خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ان کو اونچا کرے۔اور جب خدا انہیں عزت دینا چاہتا ہے تو پھر کسی کے الزام لگانے سے کیا بنتا ہے۔اب دیکھوسورۃ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کوڑ سوا کیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے جو تعلقات ہیں ان میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور اس