خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 418

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۸ جلد سوم تمہارے باپ سے نرمی اور احسان کا ہی معاملہ کریں گے۔اب گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی مگر اس کے بیٹے کا دل اس غم سے کباب ہو ر ہا تھا کہ میرے باپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے گندے اور نا پاک الفاظ کیوں استعمال کئے اوراس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے باپ سے اس کا انتقام لے گا۔چنانچہ جب اسلامی لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو اُس کا بیٹا جلدی سے آگے بڑھا اور مدینہ کے دروازہ پر تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑ ہو گیا اور اپنے باپ سے کہنے لگا کہ خدا کی قسم! میں تمہیں اُس وقت تک شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تم اس بات کا اقرار نہ کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے سب سے زیادہ معزز شخص ہیں اور میں مدینہ کا ذلیل ترین انسان ہوں۔اور اگر تو نے اس بات کا اقرار نہ کیا تو میں اسی تلوار سے تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔عبد اللہ بن ابی ابن سلول نے اپنے بیٹے کی زبان سے یہ بات سنی تو وہ گھبرا گیا اور اس نے مدینہ کے دروازہ میں کھڑے ہو کر کہا کہ اے لوگو! سن لو میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے سب سے زیادہ معزز انسان ہیں۔جب اس نے یہ بات کہی تب اس کے بیٹے نے اس کا راستہ چھوڑا اور اُسے شہر میں داخل ہونے دیا۔غرض یہ بھی ایک عذاب تھا جو خدا تعالیٰ نے خوداس کے بیٹے کے ذریعہ اُسے دیا۔اس الزام کا ذکر کرنے اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کی اس شرارت کو بیان کرنے کے بعد کہ اس نے خلافت میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا یا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللہ نور السمواتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مصباح ، المِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ " اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے مگر اُس کے نور کو مکمل کرنے کا ذریعہ نبوت ہے اور اُس کے بعد اس کو دنیا میں پھیلانے اور اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ خلافت ہی ہے۔گویا نبوت ایک چمنی ہے جو اس کو آندھیوں سے محفوظ رکھتی ہے اور خلافت ایک ریفلیکٹر ہے جو اُس کے نور کو دور تک پھیلاتا ہے۔پس ان منافقوں کی تدبیروں کی وجہ