خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 412
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۲ جلد سوم سے لئے فائدہ بخش ہو سکتی تھی یا بعض لوگوں کی اغراض ان کو بد نام کرنے کے ساتھ وابستہ تھیں ور نہ خودحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بدنامی سے کسی شخص کو کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ آپ سے سوتوں کا تعلق ہو سکتا تھا اور یہ خیال ہوسکتا تھا کہ شاید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے حضرت عائشہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں گرانے اور اپنی نیک نامی چاہنے کے لئے اس معاملہ میں کوئی حصہ لیا ہو۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے اس معاملہ میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے میں جس کو اپنا رقیب اور مد مقابل خیال کرتی تھی وہ حضرت زینب بنت جحش تھیں ان کے علاوہ اور کسی بیوی کو میں اپنا رقیب خیال نہیں کرتی تھی مگر عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں زینب کے اس احسان کو کبھی نہیں بھول سکتی کہ جب مجھ پر الزام لگایا گیا تو سب سے زیادہ زور سے اگر کوئی اس الزام کی تردید کیا کرتی تھیں تو وہ حضرت زینب ہی تھیں۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اگر کسی کو دشمنی ہو سکتی تھی تو اُن کی سوتوں کو ہی ہو سکتی تھی اور اگر وہ چاہتیں تو اس میں حصہ لے سکتی تھیں تا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے گر جائیں اور ان کی عزت بڑھ جائے مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں دیا اور اگر کسی سے پوچھا گیا تو اُس نے حضرت عائشہ کی تعریف ہی کی۔غرض مردوں کی عورتوں سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس آپ پر الزام یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا یا پھر حضرت بو بکر سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں۔وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے اُنہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر -