خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 411
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۱ جلد سوم کیا تعلق ہوا یعنی سورۃ نور کے پانچویں رکوع کا اس کے نویں رکوع تک تو خلافت سے جوڑ ہوالیکن جو پہلے چار رکوع ہیں جن میں بدکاری اور بد کاری کے الزامات کا ذکر آتا ہے ان کا اس سے کیا تعلق ہے جب تک یہ جوڑ بھی نہ ملے اُس وقت تک قرآن کریم کی ترتیب پورے طور پر ثابت نہیں ہوسکتی۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ پہلے چار رکوعوں کا باقی پانچ رکوعوں سے جن میں خلافت کا ذکر آتا ہے کیا تعلق ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ پہلے چار رکوعوں میں بدکاری کے الزامات کا ذکر اصل مقصود ہے اور ان میں خصوصاً اُس الزام کو رد کرنا مقصود ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگایا گیا تو اس کی اصل غرض کیا تھی اُس کا سبب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ان لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی دشمنی تھی۔ایک گھر میں بیٹھی ہوئی عورت سے جس کا نہ سیاسیات سے کوئی تعلق ہو، نہ قضاء سے، نہ عہدوں سے، نہ اموال کی تقسیم سے ، نہ لڑائیوں سے ، نہ مخالف اقوام پر چڑھائیوں سے ، نہ حکومت سے نہ اقتصادیات سے، اُس سے کسی نے کیا بغض رکھنا ہے۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہ راست بغض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔اس الزام کے بارہ میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ نَعُوذُ بِاللهِ یہ الزام سچا ہو جس کو کوئی مومن ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا خصوصاً اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر سے اس گندے خیال کورڈ کیا ہے۔اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عائشہ پر الزام بعض دوسرے وجودوں کو نقصان پہنچانے کے لئے لگایا گیا ہو۔اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون کون لوگ تھے جن کو بدنام کرنا منافقوں کے لئے یا ان کے سرداروں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔ایک ادنی تدبر سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے۔کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی۔یہ دونوں وجود ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی لحاظ سے یا دشمنیوں کے لحاظ سے بعض لوگوں کے