خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 410
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۰ جلد سوم الفاظ زنا کا الزام لگانے والوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے رکھے تھے اور جو نام ان کا تجویز کیا تھا وہی نام خدا تعالیٰ نے خلافت کے منکرین کا رکھا اور قریباً اسی قسم کے الفاظ اس جگہ استعمال کئے ، وہاں یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ بدکاری کا الزام لگاتے اور پھر چار گواہ ایک موقع کے نہیں لاتے انہیں ۸۰ کوڑے مارو ، انہیں ساری عمر جھوٹا سمجھو اور سمجھ لو کہ یہ فاسق لوگ ہے اور یہاں بھی یہ فرمایا کہ جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے سمجھ لو کہ وہ فاسق ہے۔غرض جو شخص قرآن کریم کو ایک حکیم ہستی کی کتاب سمجھتا ہے اور اس کے اعلیٰ درجہ کے با ربط اور ہم رشتہ مضمونوں کے کمالات دیکھنے کا اسے موقع ملا ہے اُس کے دل میں لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تینوں باتوں کا آپس میں جوڑ کیا ہے ؟ اس مشکل کو حل کرنے کیلئے اگر اس مضمون پر غور کیا جائے جو میں نے اوپر بتایا ہے اور جو یہ ہے کہ الله نور السموت والارض الوہیت ، نبوت اور خلافت کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے تو آخری دو مضمونوں کا تعلق پہلے دو مضامین سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اللهُ نُورُ السَّموت والارض میں خلافت کا اصولی ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کا وجود بھی نبوت کی طرح ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے جلالِ الہی کے ظہور کے زمانہ کو ممتد کیا جاتا ہے اور الہی نور کو ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے فائدے کیلئے محفوظ رکر دیا جاتا ہے۔اس مضمون کے معلوم ہونے پر طبعا قرآن کریم پڑھنے والوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ خدا کرے ایسی نعمت ہم کو بھی ملے سو قعد اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ کی آیات میں اس خواہش کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا اور بتا دیا کہ یہ نعمت تم کو بھی اسی طرح ملے گی جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کو ملی تھی۔غرض ان بیان کردہ معنوں کی رو سے الله نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں کا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قبرِیم کی آیت اور ان کی متعلقہ آیتوں سے ایک ایسا لطیف اور طبعی جوڑ قائم ہو جاتا ہے جو دل کو لذت اور سرور سے بھر دیتا ہے اور ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ اس مضمون کا پہلی آیتوں سے۔