خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 408

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۸ جلد سوم اس انعام کو رڈ کر دیں تو اس کا علاج کسی شخص کے پاس نہیں۔الله نور السموت والارض والی آیت کا مضمون مختصراً بتانے کے بعد اب میں یہ بھی بتا تا ہوں کہ کس طرح یہ تمام سورۃ اسی ایک مضمون کے گرد چکر لگا رہی ہے۔اس سورۃ کو اللہ تعالیٰ نے بدکاری اور بدکاری کے الزامات لگانے والوں کے ذکر سے شروع کیا ہے اور اس کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگا تھا اُس کا ذکر کیا ہے۔پھر اور بہت سی باتیں اسی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بیان فرماتا ہے اور مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ انہیں ایسے مواقع پر کن کن باتوں پر عمل کرنا چاہئے۔پھر وہ ذرائع بیان کرتا ہے جن پر عمل کرنے سے بدکاری دنیا سے مٹ سکتی ہے۔یہ تمام مضامین اللہ تعالیٰ نے پہلے، دوسرے اور تیسرے رکوع میں بیان فرمائے ہیں۔کسی جگہ الزام لگانے والوں کے متعلق سزا کا ذکر ہے، کسی جگہ الزامات کی تحقیق کے طریق کا ذکر ہے، کسی جگہ شرعی ثبوت لانے کا ذکر ہے، کسی جگہ ایسے الزامات لگنے کی وجوہ کا ذکر ہے، کسی جگہ ان دروازوں کا ذکر ہے جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔غرض تمام آیتوں میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے مگر اس کے معاً بعد فرماتا ہے اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالأَرْضِ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اب انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کا پہلے رکوعوں سے کیا تعلق ہے؟ ایک ایسا مفسر جو یہ خیال کرتا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں ، وہ نَعُوذُ بالله ایک بے ربط کلام ہے، اس کی آیتیں اسی طرح متفرق مضامین پر مشتمل ہیں جس طرح دانے زمین پر گرائے جائیں تو کوئی کسی جگہ جا پڑتا ہے اور کوئی کسی جگہ تو وہ کہہ دے گا کہ اس میں کیا حرج ہے پہلے وہ مضمون بیان کیا گیا تھا اور اب یہ مضمون شروع کر دیا گیا ہے۔مگر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم سے واقف ہے جو جانتا ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ ایک ترتیب رکھتا ہے وہ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ پہلے تو بد کاری کے الزامات اور ان کو دور کرنے کا ذکر تھا اور اس کے معاً بعد یہ ذکر شروع کر دیا گیا ہے کہ الله نور السموت والارض ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا ؟ پھر انسان اور زیادہ حیران ہو جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ پانچویں رکوع میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللهُ نُورُ السّموت والارض اور اس سے دو رکوع بعد یعنی