خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 407
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۷ جلد سوم ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔اگر خلافت نہ ہوتی تو بعض کاموں پر تو زیادہ طاقت خرچ ہو جاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شقاق کی وجہ سے کسی نظام کے ماتحت جماعت کا رو پید اور اس کا علم اور اُس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔غرض خلافت کے ذریعہ سے الہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے مکمل ہوتا ہے ممتد اور لمبا کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو الہی نور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گیا بلکہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے طاقچہ کے ذریعہ اس کی مدت کو سوا دو سال اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد وہی نور خلافت عمر کے طاق کے اندر رکھ دیا گیا اور ساڑھے دس سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت عمر کی وفات کے بعد وہی نور عثمانی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور بارہ سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت عثمان کی وفات کے بعد وہی نور علوی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور چار سال نو ماہ اُس نور کو اور لمبا کر دیا گیا۔گویا تمیں سال الہی نور خلافت کے ذریعہ لمبا ہو گیا۔پھر ناقص خلافتوں کے ذریعہ سے یہی نور چار سو سال تک سپین اور بغداد میں ظاہر ہوتا رہا۔غرض جس طرح ٹارچوں کے اندر ری فلیکٹر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بلب کی روشنی دور تک پھیل جاتی ہے یا چھوٹے چھوٹے ری فلیکٹر بعض دفعہ تھوڑا ساخم دے کر بنائے جاتے ہیں جیسے دیوار گیروں کے پیچھے ایک ٹین لگا ہوا ہوتا ہے جو دیوار گیر کا ری فلیکٹر کہلا تا ہے اور گو اس کے ذریعہ روشنی اتنی تیز نہیں ہوتی جتنی ٹارچ کے ری فلیکٹر کے ذریعہ تیز ہوتی ہے مگر پھر بھی دیوار گیر کی روشنی اس ری فلیکٹر کی وجہ سے پہلے سے بہت بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح خلافت وہ ری فلیکٹ ہے جو نبوت اور الوہیت کے نور کولمبا کر دیتا ہے اور اسے دور تک پھیلا دیتا ہے۔ہے۔۔۔۔۔۔غرض اس آیت میں الوہیت، نبوت اور خلافت کا جوڑ بتایا گیا ہے۔اگر کوئی کہے کہ آخر خلافت بھی تو ختم ہو جاتی ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ خلافت کا ختم ہونا یا نہ ہونا انسانوں کے اختیار میں ہے اگر وہ پاک رہیں اور خلافت کی بے قدری نہ کریں تو یہ طاقچہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک قائم رہ کر اُن کی طاقت کو بڑھانے کا موجب ہوسکتا ہے اور اگر وہ خود ہی