خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 406

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۶ جلد سوم ہیں:۔خلافت وہ ریفلیکٹر ہے جو نبوت اور الوہیت کے نور کو دور تک پھیلا دیتا ہے سورۃ النور آیت ۳۶ الله نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْض کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نور کو آگ کی شکل میں دیکھا۔اور فرمایا اني انست تارا میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ اس آگ کو نہیں دیکھ رہے تھے۔پس انشت تارا میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کے وجود میں ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ظہور اس دنیا میں بطور نار کے ہوتا ہے یعنی کوئی تیز نظر والا ہی اسے دیکھ سکتا ہے لیکن جب وہ نبی کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے تو پھر وہ نور ہو جاتا ہے یعنی لیمپ کی طرح اس کی روشنی بہت تیز ہو جاتی ہے۔پھر نبوت میں یہ نور آ کر مکمل تو ہو جاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود ہوتا ہے کیونکہ نبی بھی موت سے محفوظ نہیں ہوتے۔پس اس روشنی کو دُور تک پہنچانے کے لئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی سو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک ری فلیکٹر بنایا جس کا نام خلافت ہے۔جس طرح طاقچہ تین طرف سے روشنی روک کرصرف اس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اس کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خلفاء نبی کی قوت قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہورہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پروگرام کے ماتحت استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں