خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 404
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۴ جلد سوم وعظ کرتے چلے آئے ہیں ان کے دشمنوں کا ہمیشہ یہ اعتراض رہا ہے کہ ہدایت کے لئے انسان سے بالا کوئی وجود آنا چاہئے لیکن باوجود اس اعتراض کے خدا ہمیشہ انسانوں کو ہی لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا رہا کیونکہ اگر رسول کسی غیر جنس میں سے ہو تو وہ بنی نوع انسان کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا۔جس طرح ایک انسان شیر کی نقل نہیں کر سکتا اور نہ شیر انسان کی نقل کر سکتا ہے اور یا پھر ولو شاء الله لانْزِّلَ مَلَيْكَةٌ سے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اس کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں اُترے کہ ان کو دیکھ کر ہم سمجھ جاتے کہ یہ سچا ہے۔اس میں ان کی جہالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے پہلے لوگوں سے یہ سن کر کہ نبیوں پر فرشتے اُترا کرتے تھے یہ سمجھ لیا کہ وہ دوسروں کو بھی نظر آتے تھے۔چنانچہ انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دینا چاہتا تو جس طرح پہلے لوگوں کے ساتھ فرشتے آیا کرتے تھے اسی طرح اس کے ساتھ بھی فرشتے اُترتے ایسا خاموشی سے آنے والا نبی تو ہم نے کبھی نہیں سنا۔مگر ان مخالفتوں کے باوجود ہمیشہ انبیاء کی تعلیم ہی کامیاب ہوتی رہی ہے کیونکہ ماننے کے قابل وہی بات ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے۔اور وہ جس وجود میں بھی انسان کو آواز دے اس کا فرض ہے کہ اس کو سنے اور غلط حربیت اور مادر پدر آزادی کو اپنے لئے لعنت کا طوق سمجھے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۶ صفحه ۱۵۷،۱۵۶) اللهب : ٢ المؤمنون: ۲۵