خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 403

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۳ جلد سوم چونکہ دنیا کا نظام اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک باہم مادہ تعاون نہ پایا جائے اور اعلیٰ حکام کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر نہ رکھا جائے اس لئے ایسے لوگ جو باغیانہ روح اپنے اندر رکھتے ہیں مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی قابل نفرت سمجھے جاتے ہیں اور دنیوی حکومتیں بھی ایسے لوگوں کو گرفتار کر کے انہیں مختلف قسم کی سزائیں دیتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اس قسم کی حریت کا نعرہ بلند کرنے والوں نے اسلام کی شدید مخالفت کی جن میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اپنے رشتہ دار بھی شامل تھے۔چنانچہ ابولہب جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چا تھا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تبت يدا أبي لَهَبٍ و تب کے یعنی آگ کے شعلوں کا باپ ہلاک ہو گیا۔اس جگہ اُسے آگ کے شعلوں کا باپ اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناری طبیعت رکھنے والے لوگوں کا سردار تھا اور وہ اور اس کے ساتھی اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے کہ آپ کو مانا تو انہیں اپنی سرداری چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرنی پڑے گی اور یہ چیز ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔نوح علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی تو حید کی تعلیم پیش کی تو لوگوں نے اُس کو ماننے سے انکار کر دیا اور انہوں نے دوسروں کو بھی یہ کہہ کر بہکانا شروع کر دیا کہ یہ تو تمہارے جیسا ایک انسان ہے اس کے اندر کون سی ایسی خصوصیت پائی جاتی ہے جس کی بناء پر اس کی اطاعت کی جائے۔اس نے جو یہ ساری قوم کے خلاف ایک نئی آواز بلند کرنا شروع کر دی ہے تو اس کا مقصد محض اتنا ہے کہ اس کے نتیجہ میں کچھ لوگ اس کے گرد جمع ہو جائیں اور اِس کا جتھہ مضبوط ہو جائے اور یہ ہم پر کرنے لگ جائے۔مگر ہم اس کو کبھی برداشت نہیں کریں گے ہم مٹ جائیں گے مگر اپنی حریت اور آزادی میں کوئی فرق نہیں آنے دیں گے۔پھر انہوں نے اس سے بھی آگے قدم بڑھایا اور کہا کہ اگر آسمان سے فرشتے ہم پر حاکم بنا کر بھیجے جاتے تو ہم مان بھی لیتے لیکن انسان نبی یا انسان خلیفہ کو ہم ماننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ اس کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ شروع سے ہی خدا تعالیٰ کے انبیا ء خدائی تو حید کا رحكوم