خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 377

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم صرف اسی قدر مرا د تھی یہ مطلب ہرگز نہ تھا کہ آدم کو اُس وقت پیدا کیا گیا تھا بلکہ ان کی بلوغت روحانی کے زمانہ میں انہیں الہام کا مرکز بنانے کا اعلان تھا۔اس کے بعد کی آیت بھی اسی امر پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وعلّمَا دَمَ الأَسْمَاء كُلها الله تعالى نے ملائکہ کو خلیفہ بنانے کی خبر دے کر آدم پر الہام نازل کیا اور اسے تمام اسماء سکھائے۔اسماء کیا تھے؟ اس کی نسبت تو میں اگلی آیت میں روشنی ڈالوں گا اس وقت اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ یہ آیت بتاتی ہے کہ اُس وقت آدم پہلے سے موجود تھے کیونکہ خلیفہ بنانے کا ذکر کرنے کے بعد یہ نہیں کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم پر الہام نازل کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ اُس وقت سے پہلے آدم پیدا ہو چکے تھے۔دوسری آیت جس میں آدم کا ذکر کیا گیا ہے یہ ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوِّرُ نَكُمْ ثم قلنا للمليكةِ اسْجُدُ والدہ کے یعنی ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو اعلیٰ سے اعلیٰ قومی بخشے پھر اعلیٰ قومی بخش کر فرشتوں سے کہا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو۔میں نے صورت دینے کے معنی اس جگہ اعلیٰ قومی بخشنے کے کئے ہیں اور یہ لغت کے مطابق ہیں مفردات راغب میں لکھا ہے صورت دو قسم کی ہوتی ہے اَحَدُهُمَا مَحْسُوسٌ يُدْرِكُهُ الْخَاصَّةُ وَالْعَامَّةُ بَلْ يُدْرِكُهُ الْإِنْسَانُ وَكَثِيرٌ مِنَ الْحَيَوَانِ كَصُورَةِ الْإِنْسَانِ وَالْفَرَسِ وَالْحِمَارِ بِالْمُعَايَنَةِ کے یعنی ایک صورت تو وہ ہوتی ہے جو حواس ظاہری سے معلوم ہوتی ہے اسے خاص و عام سب معلوم کر لیتے ہیں بلکہ انسان کے علاوہ بہت سے جانور بھی اسے دیکھتے ہیں جیسے انسان یا گھوڑے یا گدھے کی شکل وَالشَّانِی مَعْقُولٌ يُدْرِكُهُ الْخَا صَّةَ دُونَ الْعَامَّةِ كَالصُّورَةِ الَّتِي اِخْتَصَّ الْإِنْسَانُ بِهَا مِنَ الْعَقْلِ وَالرَّ وِيَّةِ وَالْمَعَانِي الَّتِي حُصَّ بِهَا شَيْءٌ می اور دوسری صورت وہ ہے جو صرف عقل کے ذریعہ سے دیکھی جاسکتی ہے اسے صرف خاص ہستیاں دیکھ سکتی ہیں۔جانور تو الگ رہے عام انسان بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے جیسے کہ وہ صورت جس سے انسان کو ممتاز کیا گیا ہے یعنی اس کی عقل اور قوت فکر یہ۔اسی طرح وہ ممتاز کرنے والی طاقتیں جو مختلف اشیاء کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔