خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 376

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم تخلیق انسان یکدم نہیں ہوئی ’اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں جو آدم کا واقعہ بیان ہوا ہے اس میں کہیں بھی اس امر کا اظہار نہیں کیا گیا کہ آدم علیہ السلام سے نسلِ انسانی کی ابتداء ہوئی ہے یا یہ کہ ان کے زمانہ میں اور کوئی بشر نہ تھا۔قرآن کریم میں آدم علیہ السلام کا نام لے کر ان کے واقعہ کو مندرجہ ذیل مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔اول تو اسی آیت میں جس کی تفسیر میں اس وقت لکھ رہا ہوں۔اس آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس میں انسانی پیدائش کا کوئی ذکر نہیں صرف یہ فرماتا ہے کہ یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں اور یہ فقرہ اپنی بناوٹ سے ہی ظاہر کرتا ہے کہ آدم اور ان کے کچھ ہم جنس پہلے ہی موجود تھے ان کے بنانے کا اُس وقت سوال نہ تھا بلکہ سوال صرف بشر میں سے ایک خلیفہ بنانے کا تھا اور ظاہر ہے خلیفہ بنانے سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس سے پہلے کوئی انسان نہ تھا بلکہ صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اُس وقت خلیفہ اللہ نہ تھا۔قرآن کریم میں حضرت داؤد کو بھی خلیفتہ اللہ کہا گیا ہے اور حضرت داؤد کسی لحاظ سے بھی پہلے انسان نہ تھے ان کی نسبت آتا ہے يداود اِنَّا جَعَلنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِم الهَوى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللهِ یعنی اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے پس سچائی کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کر اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کر کیونکہ اگر تو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹک جائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ خلیفہ بنانے سے صرف یہ مراد ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں انصاف کی حکومت قائم کرے اور انسانی عقل کو اللہ تعالیٰ کے الہام کی ہدایت کے تابع کرے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو اس سے بھی