خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 342
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۲ جلد سوم کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔آخر انصار کی طرف سے جھگڑا اس بات پر ختم ہوا کہ ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہوا اور ایک خلیفہ انصار میں سے ہو۔اس جھگڑے کو دور کرنے کے لئے ایک میٹنگ بلائی گئی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اس وقت میں نے سمجھا کہ حضرت ابو بکر بے شک نیک اور بزرگ ہیں لیکن اس گتھی کو سلجھانا ان کا کام نہیں۔اس گتھی کو اگر کوئی سلجھا سکتا ہے تو وہ میں ہی ہوں یہاں طاقت کا کام ہے اور نرمی اور محبت کا کام نہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں میں نے سوچ سوچ کر ایسے دلائل نکالنے شروع کئے جن سے یہ ثابت ہو کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہئے اور یہ کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہوا اور ایک مہاجرین میں سے یہ بالکل غلط ہے۔آپ فرماتے ہیں میں نے بہت سے دلائل سوچے اور پھر اس مجلس میں گیا جو اس جھگڑے کو نپٹانے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔حضرت ابوبکر بھی میرے ساتھ تھے میں نے چاہا کہ تقریر کروں اور ان دلائل سے جو میں سوچ کر لے گیا تھا لوگوں کو قائل کروں۔میں سمجھتا تھا کہ حضرت ابو بکر اس شوکت اور دبدبہ کے مالک نہیں کہ اس مجلس میں بول سکیں۔لیکن میں کھڑا ہونے ہی لگا تھا کہ حضرت ابو بکر نے غصہ سے ہاتھ مار کر مجھ سے کہا کہ بیٹھ جاؤ اور خود کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں خدا کی قسم ! جتنی دلیلیں میں نے سوچی تھیں وہ سب کی سب حضرت ابو بکڑ نے بیان کر دیں۔اور پھر اور بھی کئی دلائل بیان کرتے چلے گئے اور بیان کرتے چلے گئے یہاں تک کہ انصار کے دل مطمئن ہو گئے اور انہوں نے خلافت مہاجرین کے اصول کو تسلیم کر لیا۔یہ وہی ابو بکر تھا جس کے متعلق حضرت عمرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ کسی جھگڑے پر بازار میں آپ کے کپڑے پھاڑ دیئے اور مارنے پر تیار ہو گئے تھے۔یہ وہی ابو بکر تھا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابوبکر کا دل رقیق ہے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو وفات سے قبل آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا عائشہ ! میرے دل میں بار بار یہ خواہش اُٹھتی ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دوں کہ وہ میرے بعد حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنالیں لیکن پھر رُک جاتا ہوں کیونکہ میرا دل جانتا ہے کہ میری وفات کے بعد خدا تعالیٰ اور اس کے مومن بندے ابوبکر کے