خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 341
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۱ جلد سوم خدمت دین کرنے والوں کا مقام خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۴۹ء بمقام یا رک ہاؤس کوئٹہ میں حضور نے فرمایا : - ’ یہ بات انبیاء سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ان سے اُتر کر بھی اپنے اپنے زمانہ میں ایسے لوگ ملتے ہیں کہ جو کام انہوں نے اس وقت کیا وہ ان کا غیر نہیں کر سکتا تھا مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی لے لو۔حضرت ابو بکڑ کے متعلق کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ بھی کسی وقت اپنی قوم کی قیادت کریں گے۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ آپ کمز ورطبیعت صلح کل اور نرم دل واقع ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی جنگوں کو دیکھ لو آپ نے کسی بڑی جنگ میں بھی حضرت ابو بکر کو فوج کا کمانڈ رنہیں بنایا۔بے شک بعض چھوٹے چھوٹے غزوات ایسے ہیں جن میں آپ کو افسر بنا کر بھیجا گیا مگر بڑی جنگوں میں ہمیشہ دوسرے لوگوں کو ہی کمانڈر بنا کر بھیجا جاتا تھا۔اسی طرح دوسرے کاموں میں بھی آپ کو انچارج نہیں بنایا جاتا تھا۔مثلاً قرآن کریم کی تعلیم ہے یا قضاء وغیرہ کا کام ہے یہ بھی آپ کے سپرد نہیں کیا گیا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ جب ابوبکر کا وقت آئے گا تو جو کام ابو بکر کرے گا وہ اس کا غیر نہیں کر سکے گا۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور مسلمانوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ کون خلیفہ ہو اُس وقت حضرت ابو بکر کے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ خلیفہ ہوں گے۔آپ سمجھتے کہ حضرت عمرہ وغیرہ ہی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔انصار میں جوش پیدا ہوا اور انہوں نے چاہا کہ خلافت انہی میں ہو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسلام کی خاطر قربانیاں کی ہیں اور اب خلافت کا حق ہمارا ہے اور ادھر مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک جھگڑا بر پا ہو گیا۔انصار کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو اور مہاجرین کہتے تھے