خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 336

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۶ جلد سوم سادہ زندگی اور خلیفہ وقت کا حکم حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۲۵ اکتو بر ۱۹۴۶ء کے خطبہ جمعہ میں سادہ زندگی اپنانے اور خلیفہ وقت کے حکم پر ہر احمدی کو اپنی جان قربان کر دینے کے لئے تیار رہنے کا ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا : - جماعت کا ہر فرد جو اس سلسلہ میں منسلک ہے اس کا فرض ہے کہ امام کی طرف سے جو بھی آواز بلند ہواس پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی تحریک کرے اور چاہے صدرانجمن احمد یہ ہو یا کوئی اور انجمن حقیقی معنوں میں وہی انجمن سمجھی جاسکتی ہے جو خلیفہ وقت کے احکام کو ناقدری کی نگاہ سے نہ دیکھے بلکہ ان پر عمل کرے اور کرتی چلی جائے اور اس وقت تک آرام کا سانس نہ لے جب تک ایک چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی ایسا موجود ہو جس پر عمل نہ کیا جا تا ہو۔پس ہر احمدی جس نے منافقت سے میری بیعت نہیں کی اور ہر احمدی جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور سُر خرو ہونا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے احکام پر عمل کرنے اور دوسروں سے عمل کرانے کے لئے کھڑا ہو جائے اور صرف اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے متعلق جوابدہ سمجھے۔اگر امام کی طرف سے ایک آواز بلند ہوتی ہے سننے والے سنتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرنے کی بجائے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو خواہ اس قسم کا کام کرنے والی صدر انجمن احمد یہ ہو ، خواہ تحریک جدید کا کوئی سیکرٹری ہو، خواہ فنانشل سیکرٹری ہو یا امیر جماعت مقامی ہو یا کوئی اور عہدیدار ہو وہ محض اپنے نام سے اللہ تعالیٰ کے حضور سُرخرو نہیں ہو سکتے۔ان کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ ان کا عمل منافقانہ عمل ہے اور ان کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے اپنے امام کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے ایک جھوٹا دعویٰ ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اُس وقت حضرت ابو بکڑ نے ایک