خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 323
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۳ جلد سوم کیا تعلق ہے یہ سودا خلیفتہ المسیح سے نہیں بلکہ مرزا محمود احمد سے ہو رہا تھا اور دوسرا فریق اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو سودے سے انکار کر کے کسی دوسرے سے سودا شروع کر دے۔یہ زمیندارہ معاملہ ہے اور اس میں دوسرا شخص اختیار رکھتا ہے کہ وہ چاہے تو مان لے اور چاہے تو نہ مانے اس میں خلافت یا خلیفہ امسیح کا کوئی سوال نہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے نے خلیفہ المسیح کا مقابلہ کیا۔گو اخلاقی طور پر میرے نز دیک دوسرے فریق کی غلطی تھی کیونکہ جب کوئی شخص سودا کر رہا ہو تو دوسرے کو اس میں دخل نہیں دینا چاہئے مگر شریعت میں چونکہ یہ بھی مسئلہ ہے کہ جب تک کچھ پیشگی رقم نہ دے دی جائے اس وقت تک سودا مکمل نہیں ہوسکتا اس لئے دوسرے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے تو سودے سے انکار کر دے اور کسی دوسرے شخص کو زیادہ قیمت پر دے دے۔بہر حال ہمارے ملک میں چونکہ عام طور پر لوگوں کو اپنے عہدے جتانے کی عادت ہے جیسے تحصیل دار کہہ دیا کرتے ہیں کہ تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم تحصیلدار ہیں یا ڈپٹی کمشنر کہہ دیا کرتے ہیں تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم ڈپٹی کمشنر ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھی دھمکی دے دی اور کہا کہ تم جانتے ہو یہ سودا خلیفہ المسیح کر رہے ہیں پس تم کسی اور سے نہیں بلکہ خلیفہ المسیح کا مقابلہ کر رہے ہو حالانکہ یہ زمین خلیفہ امسیح نہیں بلکہ مرزا محمود احمد خرید رہا تھا اور مرزا محمود احمد کے مقابلہ میں ایسے معاملات میں ہر شخص خواہ وہ احمدی ہو یا نہ ہو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے۔غرض اخلاقی طور پر گو اس سے غلطی ہوئی مگر میں نے پسند نہ کیا کہ میں واقف ہوکر اس کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھا لوں۔تو لوگ بلا وجہ اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اسی طرح جو عہد یدار ہیں ان کی عورتوں کے متعلق میرے پاس شکایت آتی رہتی ہے کہ وہ بھی روں پر رعب جمانا چاہتی ہیں گویا جو احترام ناظر امور عامہ کو حاصل ہے وہی ناظر امور عامہ کی بیوی بھی حاصل کرنا چاہتی ہے اور جس طرح ملکہ کو ایک حق حاصل ہوتا ہے اسی طرح وہ بھی اپنا حق جتانا چاہتی ہے حالانکہ ناظر امور عامہ کی بیوی کو کوئی حق نہیں کہ وہ لوگوں پر رعب جمائے وہ جماعت میں محض ایک فرد کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر جماعت سے لوگ اس