خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 292

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۲ جلد سوم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اُس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو وہ جماعت کا ایک بہت بڑا ستون سمجھتے تھے۔ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اس طرح گھبرائے ہوئے آئے کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا ہے اور آتے ہی سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ بڑی خطر ناک بات ہو گئی ہے آپ جلدی کوئی فکر کریں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کیا بات ہے۔انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور میں اب قادیان میں نہیں رہ سکتا آپ جلدی سے کسی طرح اُن کو منوالیں ایسا نہ ہو کہ وہ ނ قادیان سے چلے جائیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ڈاکٹر صاحب ! میری طرف مولوی محمد علی صاحب کو جا کر کہہ دیں کہ اگر انہوں نے کل جانا ہے تو آج ہی قادیان سے تشریف لے جائیں۔ڈاکٹر صاحب جو سمجھتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کے جانے سے نہ معلوم کیا ہو جائے گا آسمان ہل جائے گا یا زمین لرز جائے گی انہوں نے جب یہ جواب سنا تو ان کے ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے کہا میرے نزدیک تو پھر بڑا فتنہ ہوگا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ڈاکٹر صاحب! میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اگر فتنہ ہوگا تو میرے لئے ہو گا آپ کیوں گھبراتے ہیں۔آپ انہیں کہہ دیں کہ وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں تو کل کی بجائے آج ہی چلے جائیں۔غرض اسی طرح یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ اس طرح ہماری دال نہیں گلتی تو انہوں نے غیروں میں تبلیغ کرنی شروع کر دی اور سمجھا کہ عزت اور شہرت کے حاصل کرنے کا یہ ذریعہ زیادہ بہتر ہوگا۔اس تبلیغ کے سلسلہ میں کہیں انہوں نے نبوت کے مسائل میں ایسا رنگ اختیار کرنا شروع کر دیا جس سے غیر احمدی خوش ہو جا ئیں۔کہیں کفر و اسلام کے مسئلہ میں انہوں نے مداہنت سے کام لینا شروع کر دیا چنانچہ یہ نبوت اور کفر و اسلام وغیرہ مسائل ۱۹۱۰ ء کے شروع میں پید ہوئے ہیں بلکہ ان مسائل نے اصل زور ۱۹۱۰ ء اور ۱۹۱۱ء میں پکڑا ہے۔اس سے پہلے ۱۹۰۸ء میں اور ۱۹۰۹ء میں صرف خلافت کا جھگڑا تھا کفر و اسلام اور نبوت وغیرہ کے مسائل باعث اختلاف نہیں تھے۔اُس وقت ان