خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 280

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۰ جلد سوم باتوں کا جواب ابھی تک ہماری طرف سے نہیں دیا گیا حالانکہ سب باتوں کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ ہماری طرف سے دیا جا چکا ہے۔آج اسی سلسلہ میں میں جماعت کے دوستوں کی راہنمائی کے لئے انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ در حقیقت یہ اختلاف مذہبی بعد میں بنا ہے پہلے یہ صرف دنیوی اختلاف تھا۔یعنی صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبروں کا خیال تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت غاصبانہ ہے اور ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ خلافت کے عہدہ پرمتمکن ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحیح جانشین اور قائم مقام صدر انجمن احمد یہ ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو اُس زمانہ کے ہیں ان کو معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جو پہلا جلسہ سالانہ ہوا اُس میں متواتر صدرانجمن احمد یہ کے ممبروں کی تقریروں میں اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے اور بار بار اپنے لیکچروں میں اس کا ذکر کیا جاتا۔غرض ۱۹۰۸ء میں دسمبر کے ایام میں جو جلسہ سالا نہ ہوا اور جس کا انتظام مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کیا گیا تھا اُس وقت کے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے اس جلسہ کی تقریروں میں بڑے زور سے اس بات کو دُہرایا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین صدرانجمن احمد یہ ہے۔خدا تعالیٰ کے مامور کی قائم مقام صدر انجمن حمدیہ ہے۔خدا تعالیٰ کے مامور کی خلیفہ صد را انجمن احمد یہ ہے اور اس کی اطاعت تمام جماعت کے لئے ضروری ہے۔حضرت مولوی صاحب ہمارے پیر ہیں لیکن خلیفہ صدرانجمن احمد یہ ہے جس کے وہ صدر ہیں لیکن ان کی یہ تقریر میں اب ان کے لئے فائدہ بخش نہیں ہو سکتی تھیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد سب سے پہلے انہی لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ آپ خلافت کے بوجھ کو اُٹھا ئیں اور پھر انہی لوگوں نے یہ اعلان کیا جو اُس وقت کے اخبارات میں شائع ہوا کہ ” مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اوّل المهاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اعلم و اتقی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں۔وو احمدیہ