خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 260
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۰ جلد سوم اندرونی نقص اور بیماری کا نتیجہ ہے تو بے شک اس کے دل کو صبر آ سکتا تھا اور ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کی طبیعت میں اضطراب تو پیدا ہوا ہوگا مگر حد درجہ کا نہیں۔مگر اس نے جس رنگ میں اس کلام کو لیا اور اس کی اہمیت کو سمجھا وہ بتلاتا ہے کہ اس نے اسے کھیل نہیں سمجھا اس نے اسے بیماری نہیں سمجھا، اس نے اسے بد ہضمی نہیں سمجھا ، اس نے اسے دماغی خرابی نہیں سمجھا بلکہ اُس نے نہایت یقین اور وثوق کے ساتھ یہ سمجھا کہ خدا نے واقعہ میں یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔پس وہ تاریک گھڑیاں اور اس کی بقیہ رات اس پر کیسی گزری ہوگی اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔ابھی تمہیں وہ مقام حاصل نہیں کہ تم بڑے لوگوں کی مجلسوں میں جاسکو۔تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ فرانس کے کمانڈرانچیف کے پاس رات گزارے، تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ جرمن کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے، تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ انگلستان کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ بہت چھوٹی سی جنگ کیلئے کھڑے ہوئے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے پاس سامان موجود ہیں، باوجود اس کے کہ ان کے پاس فوجیں موجود ہیں ، باوجود اس کے کہ ان کا تمام ملک ان کی مدد کیلئے کھڑا ہے پھر بھی ان کی راتیں اور دن جس کرب سے گزرتے ہیں اور جس بھاگ دوڑ سے وہ کام لے رہے ہیں اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کو کبھی تھوڑی دیر کیلئے ان کے پاس جانے اور رہنے کا موقع ملا ہو مگر یہ شخص جس پر رات آئی اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج انگلستان کے کمانڈرانچیف کو حاصل ہیں ، اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج فرانس کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں ، اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج جرمنی کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں۔پھر ان لوگوں کے پاس صرف سامان ہی نہیں بلکہ ملک کی متحدہ طاقت ان کے ساتھ ہے۔انگلستان کا کمانڈر انچیف جانتا ہے کہ اگر میرے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا تو بھی پرواہ نہیں انگلستان کی تمام طاقت میرے ساتھ ہے اور اس کا بچہ بچہ میرے حکم پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہے، فرانس کا کمانڈرانچیف صرف ان سامان کو نہیں دیکھتا جو ا سکے پاس ہیں بلکہ وہ جانتا ہے کہ ملک کی تمام آبادی میرے حکم پر لبیک کہنے کیلئے تیار ہے اور جب میں کہوں گا کہ گولہ بارو دلاؤ تو وہ گولہ بارود