خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 251

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۱ جلد سوم کیلئے پیش کرو۔یہ ہم خرما و ہم ثواب کا موجب ہو گا خوشی بھی حاصل ہو جائیگی اور ثواب بھی حاصل ہوگا اور اگر ثواب کی نیت نہ ہوگی تو میلہ ٹھیلہ تو ہو ہی جائے گا۔میلوں میں کیا ہوتا ہے جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو دیکھنے والے کو کیا مل جاتا ہے کیا اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے یا اسے کوئی اور ذاتی خوشی حاصل ہوتی ہے؟ لوگ کندھے سے کندھے لگاتے ہوئے چلتے ہیں اور تمہاری باچھیں یو نہی کھل جاتی ہیں گویا تمہارے گھر میں بہن برس گیا تو اجتماع میں اللہ تعالیٰ نے خوشی رکھی ہے۔حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی میلوں کے خلاف بہت وعظ کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ یہ بدعت ہے دنیا گمراہ ہوگئی لوگوں نے سنت کو چھوڑ دیا وہ کوئی مہینہ بھر پہ ہی شور مچاتا رہتا مگر جب میلہ کا دن آتا تو جبہ پہنے دوڑتا ہوا میلہ کی طرف چل دیتا اور جب کوئی پوچھتا کہ مولوی صاحب! کہاں جا رہے ہیں؟ تو کہتا دنیا گمراہ ہو گئی سمجھانے جاتا ہوں اور وہاں کونے میں کھڑا ہو کر تماشا دیکھنے لگ جاتا اور جب کوئی پوچھتا کہ مولوی صاحب ! آپ یہاں کہاں وہ کہتا کہ حیران کھڑا ہوں کوئی سنتا ہی نہیں۔تو ہجوم ایک ذریعہ خوشی کا ہوتے ہیں۔کسی روتے ہوئے شخص کو میلہ میں لے جاؤ تو اس کی توجہ بھی ادھر ہو جائیگی اور وہ خوش ہو جائے گا حالانکہ ذاتی طور پر اس کیلئے خوشی کا کوئی سامان اس میں نہیں ہوتا خواہ کوئی پیسہ کے پکوڑے بھی میلہ میں جا کر نہ کھائے خواہ کوئی بچہ ” میری گو راؤنڈ پر سوار نہ ہو سکے ایک دھیلے کا کھلونا بھی نہ خرید سکے مگر وہ ماں سے اصرار ضرور کرے گا کہ میں میلہ میں ضرور جاؤں گا تو ہجوم میں ایک خوشی انسان کو حاصل ہوتی ہے۔پس جو لوگ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے جوبلی میں ایک سبق پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں مگر جو لوگ چاہتے ہیں کہ جو بلی کی ایک تقریب پر ہجوم زیادہ ہوتا وہ زیادہ خوشی حاصل کر سکیں ان کو بھی چاہیے کہ وہ مکان بھی زیادہ خالی کر کے دیں اور خدمات کے لئے زیادہ سے زیادہ نام پیش کریں اور چندے بھی زیادہ دیں ابھی تو میں اخباروں میں یہی شور پڑھتا ہوں کہ چندہ پورا نہیں ہوا۔پس اگر تمہاری عقیدت ہے تو خوشی کا اظہار ایسے رنگ میں کرو کہ ثواب بھی ہو اور خوشی بھی حاصل ہو جائے اور