خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 250

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۰ جلد سوم گرائی جارہی ہے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل تشریف لا رہے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ دیوار گرائی جارہی ہے خدا کی قدرت ہے کہ پہلے ایک مقدمہ ہوا وہ فیل ہوا دوسرا ہوا وہ نا کام ہوا تیسرے میں کامیابی ہوئی اور دیوار گرانے کا حکم ہوا۔مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اول درس دے رہے تھے جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے میں نے پیچھے دیکھا تو حضرت خلیفہ اول آ رہے تھے اور میں نے ان سے کہا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے بعینہ اسی طرح ہوا جس طرح میں نے خواب میں دیکھا تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے یہ خواب حضرت خلیفۃ المسیح اول کو سنائی ہوئی تھی اور انہوں نے میری بات سن کر فرمایا کہ تمہاری خواب پوری ہوگئی۔پھر وہ بھی دن تھے کہ چوک میں جہاں آج کل موٹر میں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اس کے سامنے لوگ جانور باندھنے کیلئے کیلے گاڑ کر جانور باندھ دیتے تھے اور جب احمد کی اندھیرے میں مہمان خانہ سے نماز کیلئے آتے تو ٹھوکریں کھا کر گرتے۔مگر آج یہ زمانہ ہے کہ کہتے ہیں قادیان میں احمدی ظلم کرتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مان لو احمدی ظلم کرتے ہیں مگر کیا یہ اللہ تعالیٰ کا نشان نہیں ؟ میں مان لیتا ہوں کہ احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل۔کیا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی تو بہر حال ظاہر ہے۔مانا کہ ہم ظالم ہو گئے مگر اس ظلم کی تو فیق کا ہمیں ملنا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کا پورا ہونا ہے تم ہمیں ظالم مان لو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو ایمان لے آؤ۔اس میں شبہ نہیں کہ غالباً جماعت کے لوگ اس سال زیادہ آئیں گے گو بعض روکیں بھی ہیں جنگ کی وجہ سے سرکاری ملازموں کو چھٹیاں نہیں مل سکیں گی یا کم ملیں گی اس لئے ان میں کمی کا امکان ہے اس لئے ممکن ہے کمی بیشی اس طرح پوری ہو جائے لیکن بہر حال سمجھنا یہی چاہیے کہ اس سال پہلے سے زیادہ لوگ آئیں گے اس لئے زیادہ مکانوں اور زیادہ خادموں کی ضرورت ہوگی اور اگر واقعہ میں تمہارے دلوں میں خوشی ہے تو اس کا اظہار اس طرح کرو کہ زیادہ سے زیادہ مکانات خالی کر کے دو اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں خدمات