خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 249

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۹ جلد سوم درکار ہوں گے اور خدمت کرنے والے بھی زیادہ چاہئیں۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ منتظمین کا یہ خیال کہ اس موقع پر بہت زیادہ روسا آئیں گے اور سینکڑوں غیر احمدی امراء شامل ہوں گے صحیح نہیں تمہارے دلوں میں بے شک خلافت اور خلافت جو بلی کی عزت ہو گی مگر دوسروں کے نزدیک اس کی کیا عزت ہوسکتی ہے پندرہ ہیں غیر احمدی رؤسا تو ممکن ہے رونق دیکھنے کے لئے آجائیں یا ممکن ہے کچھ احمدیوں کے دوست آجائیں مگر یہ کہ ہزاروں دوڑے چلے آئیں گے یہ غلط ہے ان کے نزدیک خلافت جو بلی کی نہ کوئی قیمت ہے اور نہ اہمیت۔ایاز قدر خود بشناس۔آج تمہاری کیا حیثیت ہے کہ بڑے بڑے لوگ دوڑے چلے آئیں گے آج اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو بے شک تمہاری قدر ہے مگر بڑے لوگوں کے نزدیک کوئی نہیں۔آج تو بعض جگہ ایک نمبر دار بھی تمہارے پاس سے گزرتا ہے تو ناک چڑھا کر کہہ دیتا ہے کہ یہ بے حیثیت لوگ ہیں مگر تم سمجھتے ہو کہ تمہاری بڑی اہمیت ہے۔آج صرف خدا تعالیٰ کے گھر میں تمہاری اہمیت ہے اس لئے اُسی کی طرف توجہ کرو جس کے گھر میں تمہاری عزت ہے، اُسی پر نگاہ رکھو دنیا داروں کے نزدیک ابھی تمہاری عزت کوئی نہیں۔بے شک ایک دن آئے گا جب ان کے نزدیک بھی عزت ہوگی اور اُس وقت یہ لوگ بھی کہیں گے کہ ہم تو ہمیشہ سے ہی اس طرف مائل تھے مگر ابھی وہ دن نہیں آیا۔اس کیلئے ابھی بہت زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے جب وہ کر لو گے تو وہ دن آئے گا اور اس وقت بادشاہ بھی تمہاری طرف مائل ہوں گے اور کہیں گے کہ ہم تو بچپن سے ہی اس طرف مائل تھے محض اتفاق ہے کہ اب تک اس طرف نہ آسکے۔گواب تو معمولی نمبر دار بھی ناک۔چڑھا کر گزر جاتا ہے اور کہتا ہے معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور کون نہیں۔ہر زمانہ کی حیثیت علیحدہ ہوا کرتی ہے ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مخالفین نے مسجد کا دروازہ بند کر دیا اور آپ کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کر لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اوپر سے ہو کر آتے سال یا چھ ماہ تک یہ راستہ بند رہا آخر مقدمہ ہوا اور خدا تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ دیوار گرائی گئی بعض خوا میں بھی عجیب ہوتی ہیں میں نے اُس زمانے میں خواب دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے جا رہا ہوں اور دیوار