خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 242

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۲ جلد سوم نہیں۔قرآن کریم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان خطرہ میں ہو تو تو حید کو قربان کر دیا جائے ، صداقت اور حق کو قربان کر دیا جائے یہ کہا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی خاطر تو اپنے آپ کو قربان کر دے پس صداقت انبیاء سے بھی بالا چیز ہے۔انسان خواہ وہ نبی ہو یا نبیوں کا سردار بہر حال صداقت کے تابع ہے۔جہاں تک صداقت کی اشاعت کا تعلق ہوتا ہے نبی بے شک بمنزلہ سورج کے ہوتے ہیں اس لئے کہ ان کے ذریعہ صداقت قائم ہوتی ہے۔صداقت کو شہرت اور عزت ان کے ذریعہ ہی ملتی ہے اس لئے تمثیلی طور پر اللہ تعالیٰ ان کو سورج بھی قرار دیتا ہے ورنہ حقیقت وہ قمر کی حیثیت رکھتے ہیں تمام انبیاء الحق یعنی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں جو اصل صداقت ہے قمر کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو سورج کہنا ایسی ہی بات ہے جس طرح ماں باپ کی عزت ہر مذہب میں ضروری ہے اور اسلام نے تو اس پر زیادہ زور دیا اور فرمایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔قرآن کریم کا حکم ہے کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کرو مگر باوجود اس کے ماں باپ اپنے بچے کو کہتے ہیں کہ میں قربان جاؤں ، واری جاؤں ان کا یہ کہنا مقام کے لحاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اظہار محبت کے لئے ہوتا ہے اسی طرح انبیاء کبھی شمس بھی کہلاتے ہیں مگر اصل مقام ان کا الحق کے مقابلہ میں قمر کا ہی ہوتا ہے۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی دن جب جو بالکل صاف ہو ، مطلع بالکل ابر آلود نہ ہو، چاند چودھویں کا ہو اور وہ تمام باتیں جن سے روشنی تیز ہوتی ہے موجود ہوں تو کوئی شخص کہے کہ آج چاند کیا ہے سورج ہے تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ آج چاند سورج سے اتنا مشابہہ ہے کہ اس کا دوسرا نام رکھنا ٹھیک نہیں اس لئے بالکل وہی نام دینا چاہیے۔تو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے مواقع پر ہمیشہ شریعت کی حفاظت اور اسے سب باتوں پر مقدم رکھنا چاہئے جلوس وغیرہ اسلام میں ثابت نہیں ہیں یعنی ایسے جلوس جیسے آجکل نکلتے ہیں یہ صحیح ہے کہ دوسرے شہروں میں جو جلوس وغیرہ نکلتے ہیں ان کے مقابلہ میں قادیان کے جلوس اسلامی جلوس کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر پھر بھی مجھ پر یہ اثر ہے کہ قادیان میں جو جلوس نکلتے ہیں وہ بھی خالص اسلامی جلوسوں کے مشابہہ نہیں ہیں اسلام کے زمانہ میں ہمیں یہ تو نظر آتا ہے تاریخ سے ثابت ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کے عمل۔