خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 238

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۸ جلد سوم ہے اُس کام کی طرف وہ خوب توجہ کرتے رہتے ہیں مگر جو نہی خلیفہ اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیتا ہے لوگوں کا جوش بھی سرد پڑ جاتا ہے اور ان پر غفلت طاری ہو جاتی ہے۔حالانکہ خلافت کا وجود تو خدا تعالیٰ نے بطور محور رکھا ہے اب کون سا وہ خلیفہ ہوسکتا ہے جو ہر کا م کرے ابھی تو ہماری جماعت بہت قلیل ہے مگر جوں جوں ہماری جماعت ترقی کرے گی کاموں میں بھی زیادتی ہوتی چلی جائے گی۔ابھی تو ہمارے پاس نہ حکومت ہے نہ تجارت ہے نہ یو نیورسٹیاں ہیں نہ علمی ادارے ہیں اور نہ کوئی اور چیز ہے مگر جب یہ تمام چیزیں آگئیں تو اُس وقت ہمارے کام کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائیگا کہ ہمیں ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے لائق آدمیوں کی ضرورت ہو گی جن کا یہ فرض ہو گا کہ وہ دن رات اپنے کاموں میں مشغول رہیں۔اگر وہ خود کام نہیں کریں گے اور اپنا فرض صرف یہی سمجھیں گے کہ جس کام کی طرف خلیفہ توجہ دلاتا رہے اسے کرتے رہیں اور جس کام کی طرف وہ توجہ دلانا چھوڑ دے اُسے ترک کر دیں تو جماعت کی ترقی کس طرح ہوگی۔پس ضروری ہے کہ جماعت میں ابھی سے بیداری پیدا ہو اور وہ یہ غور کرنے کی عادت ڈالے کہ جو کام وہ کر رہی ہے وہ اچھا ہے یا نہیں۔اور جب اسے معلوم ہو کہ وہ اچھا ہے اور خلیفہ نے بھی ایک آدھ دفعہ اس کی طرف توجہ دلا دی ہے تو پھر وہ اس کام کو چھوڑے نہیں بلکہ مستقل طور پر اسے اپنی زندگی کے پروگرام میں شامل کرے کیونکہ اس کے بغیر ترقی ہونا ناممکن ہے۔پس ہماری جماعت کو یہ عادت ترک کرنی چاہیے کہ جب تک خلیفہ کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا اسے وہ نہیں کرے گی۔خلیفہ کا کام صرف توجہ دلانا اور نگرانی کرنا ہے آگے جماعت کا یہ کام ہے کہ وہ کاموں کو اپنے ہاتھ میں لے اور اس مضبوطی اور استقلال سے ان کو چلائے کہ پھر ان کو چھوڑے نہیں۔پس جماعت کے دوستوں کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہیے اور اُس دن کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے جب کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں وسعت برکات حاصل ہوگی اور ایک ایک کام کیلئے ہمیں ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہوگی جو دن رات ان کا موں پر لگے رہیں۔تم آج ہی ان اہم ذمہ داریوں کے کاموں کیلئے اپنے آپ کو تیار کرو اور اس بات کا انتظار نہ کیا کرو کہ ہر کام کے کرنے کا تمہیں خلیفہ کی طرف سے حکم ملے یہ محض نمائش ہے کہ جب تک تمہارا سردار۔